مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ ، فَقُلْتُ : وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي ، لَكِنِّي سَكَتُّ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي ، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي ، قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ، قَالَ : فَلَا تَأْتِهِمْ ، قَالَ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ ، قَالَ : ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ : فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ ، قَالَ : كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ ، فَذَاكَ ، قَالَ : وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا ، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا ؟ قَالَ : ائْتِنِي بِهَا ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَيْنَ اللَّهُ ؟ قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، قَالَ : مَنْ أَنَا ؟ قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ .
حضرت معاویہ بن حکم سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، اسی اثنا مین لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: (یَرْحَمُكَ اللُّٰہ) اللّٰہ تجھے رحمت سے نوازے۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا تو میں نے کہا: کاش میری ماں مجھے گم پاتی (میں مر چکا ہوتا) تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہے ہو تو وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے ان کو جانا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو مجھے غصہ آیا لیکن میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان، میں نے آپﷺ سے پہلے اور آپﷺ کے بعد آپﷺ سے بہتر سکھانے والا نہیں دیکھا، اللّٰہ کی قسم! نہ تو آپﷺ نے مجھے ڈانٹا نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ نماز، اس میں کسی قسم کی انسانی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! میں جاہلیت سے نیا نیا نکلا ہوں اور اب اللّٰہ تعالیٰ نے اسلام بھیج دیا ہے (مجھے اسلام لانے کی توفیق دی ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (پیش گوئی کرنے والے پنڈت و نجومی) کے پاس جاتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”تو ان کے پاس نہ جا۔‘‘ میں نے عرض کیا، ہم میں سے کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، یہ ان کو کسی کام سے نہ روکے۔‘‘ ابن صباح نے کہا، ”تمہیں بالکل نہ روکے۔‘‘ میں نے عرض کیا، ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں اس کے موافق ہوں گی تو ٹھیک ہے۔‘‘ اس (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے بتایا، میری ایک لونڈی تھی، جو احد اور جوانیہ کے پاس میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف آ نکلا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا تو میں بھی اولاد آدم سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اس طرح غصہ آتا ہے، جس طرح ان کو غصہ آتا ہے، (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اس کو زور سے تھپڑ رسید کر دیا، اس پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ نے میری اس حرکت کو بہت ناگوار قرار دیا، میں نے عرض کیا، اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘ میں اسے لے کر آپﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپﷺ نے اس سے پوچھا، ”اللّٰہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا آسمان پر۔ آپﷺ نے پوچھا ”میں کون ہوں؟‘‘ اس نے کہا، اللّٰہ کے رسولﷺ ہیں، آپﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ہمیں اسحاق بن ابراھیم نے عیسیٰ بن یونس کے واسطہ سے اوزاعی کی یحیٰی بن ابی کثیر کی سند سے اس قسم کی روایت سنائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأبو سعيد الأشج وألفاظهم متقاربة ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا " .
حضرت عبداللّٰہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کہا کرتے تھے جبکہ آپﷺ نے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور آپﷺ ہمارے سلام کو جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپﷺ کو (نماز میں) سلام کہا تو آپﷺ نے ہمیں جواب نہ دیا تو ہم نے آپﷺ سے پوچھا، اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! ہم نماز میں آپﷺ کو سلام کہا کرتے تھے اور آپﷺ ہمیں جواب دیا کرتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا: ”نماز خود ایک مشغولیت رکھتی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 538
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 538
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 ، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ " .
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حارث بن شبیل سے، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» ”اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھڑے ہو۔“ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 539
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
امام صاحب تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 539
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ " .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپ کو آ کر ملا، آپ سفر میں تھے، قتیبہ نے کہا: آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ”ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ : هَكَذَا ، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ لِي : هَكَذَا ، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ : جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ : إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ .
زہیر نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح (اشارے سے کچھ) کہا۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں، آپ (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: ”جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا، تم نے (اس کے بارے میں) کیا کیا؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ زہیر نے کہا: ابوزبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے، ابوزبیر نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں (ابوزبیر) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا (سواری پر نماز کے دوران آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
حماد بن زید نے کثیر (بن شنظیر) سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: ”تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 540
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد .
عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔