مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھنا۔
حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا جَمِيعًا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ ، فَقَالَ : هِيَ السُّنَّةُ ، فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
طاوس نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دونوں پیروں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: یہ سنت ہے۔ ہم نے ان سے عرض کی: ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان (یا اگر را کی زیر کے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں) پر زیادتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (نہیں) بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 536
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔