حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
عبدالرحمان بن ابی سعید نے (اپنے والد) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے ہٹائے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ (مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو اس گناہ سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور نماز کی حرمت کا اہتمام کیا جائے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 505
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ هِلَالٍ يَعْنِي حُمَيْدًا ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا ، إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَرَأَيْتُ مِنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ ، يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ ، أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ فَنَظَرَ ، فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا ، إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحْرِهِ ، أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الأُولَى ، فَمَثَلَ قَائِمًا ، فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ ، فَخَرَجَ ، فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ ، قَالَ : وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : مَا لَكَ ، وَلِابْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْكُوكَ ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
حضرت ابن ہلال رحمتہ اللہ علیہ (یعنی حمید) بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران میں اور میرا ساتھی، ایک حدیث کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان نے کہا، میں تمہیں ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہوئی حدیث اور ان کا عمل بتاتا ہوں، میں ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا اور اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اس کے سینہ پر مارا، اس نے نظر لڑائی تو اسے ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کے سوا کوئی راستہ نہ ملا تو اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت سے اس کے سینہ پر ہاتھ مارا، یعنی زور سے دھکا دیا تو وہ سیدھا کھڑا ہو گیا، اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن وجہ تشنیع کرنے لگا، پھر لوگوں کی بھیڑ میں داخل ہو گیا، اور نکل کر مروان کے پاس گیا اور اپنی تکلیف کی اس سے شکایت کی اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنے بھتیجے کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے تو ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے، اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اس کے سینہ پر مارے (دھکا دے) اگر وہ نہ مانے (گزرنے سے باز نہ آئے) تو اس سے لڑے (زور اور طاقت استعمال کرے) کیونکہ وہ شیطان ہے (یعنی سرکش اور شریر ہے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 505
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 506
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ " ،
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (زور آزمائی کرے) کیونکہ اس کے ساتھ ہمزاد ہے۔‘‘
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 506
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 506
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بِمِثْلِهِ .
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 506
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ ، مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ ، مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ شَهْرًا ، أَوْ سَنَةً ،
حضرت بسر بن سعید رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ابو جہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے پوچھوں کہ اس نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ ابو جہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے (استحضار کر لے) کہ اس پر (اس عمل کا گناہ) کس قدر ہے تو اس کے لیے چالیس تک ٹھہرے رہنا اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہو۔‘‘ ابو نضر کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 507
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ ، مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
ہمیں عبداللہ بن ہاشم بن حیان عبدی نے وکیع کے واسطہ سے سفیان کی ابو نضر سالم سے بسر بن سعید کی روایت سنائی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ابو جہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو کیا فرماتے سنا: پھر مالک کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 507
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»