حدیث نمبر: 482
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
ذکوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔“
حدیث نمبر: 483
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، دِقَّهُ ، وَجِلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ ، وَآخِرَهُ ، وَعَلَانِيَتَهُ ، وَسِرَّهُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سجدہ میں یہ دعا کرتے تھے، ”اے اللہ میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی کھلے ہوئے بھی اور چھپے ہوئے بھی۔‘‘
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ " .
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صبیح القرشی) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت (یہ کلمات) کہا کرتے تھے: ”تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ (یہ کلمات) قرآن مجید کی تاویل (حکم کی تعمیل) کے طور پر فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوت : " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا ، تَقُولُهَا ؟ قَالَ : جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي ، إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی موت سے پہلے بکثرت یہ کلمات کہتے تھے: ”تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں تجھ سے معافی کا خواستگار ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں (گناہوں سے باز آتا ہوں) عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کلمات جو میں آپﷺ کو کہتے ہوئے دیکھتی ہوں، اب کیوں شروع کردیئے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کی گئی ہے، جب اسے دیکھتا ہوں تو یہ کلمات کہتا ہوں‘‘، پھر آپﷺ نے ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ مکمل سورت پڑھی۔
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، يُصَلِّي صَلَاةً ، إِلَّا دَعَا ، أَوَ قَالَ فِيهَا : " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سے آپ پر «إذا جاء نصر اللہ والفتح» اتری، اس وقت سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا: ”سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي۔“ ”اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔“
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ؟ فَقَالَ : " خَبَّرَنِي رَبِّي ، أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي ، فَإِذَا رَأَيْتُهَا ، أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، فَتْحُ مَكَّةَ ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا { 2 } فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا { 3 } سورة النصر آية 2-3 " .
عامر (شعبی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے: ”میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه»۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں تو بکثرت کہوں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه» تو (وہ نشانی) میں دیکھ چکا ہوں۔ «إذا جاء نصر اللہ والفتح» ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے“ (یعنی) فتح مکہ «وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا»”اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں“ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 485
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ ؟ قَالَ : أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لا إله إلا أنت ، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ ، يَقُولُ : سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ " .
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک (دعا) «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ”تو پاک ہے (اے اللہ!) اپنی حمد کے ساتھ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا“ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی (اور) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، میں نے تلاش کیا، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت»۔ میں نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے۔
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ ، كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو میں آپﷺ کو ٹٹولنے لگی تو میرا ہاتھ آپﷺ کے پاؤں کے تلوؤں پر پڑا، اس وقت آپﷺ سجدے میں تھے، اور آپﷺ کے پاؤں کھڑے تھے اور آپﷺ اللہ کے حضور عرض کر رہے تھے: ”اے اللہ میں تیری ناراضی سے تیری رضامندی کی پناہ لیتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ لیتا ہوں، اور تیری پکڑ سے بس تیری ہی پناہ لیتا ہوں، میں تیری صفت و ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا، (بس یہی کہہ سکتا ہوں) کہ تو ویسا ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے بارے میں بتلایا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَبَّأَتْهُ ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِه : سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " ،
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں (یہ کلمات) کہتے تھے: ”سبوح قدوس رب الملائكة والروح۔“ (نہایت پاک ہے، مقدس ہے فرشتوں اور روح (جبریل رضی اللہ عنہ) کا پروردگار۔)
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ہمیں ابوداؤد (طیالسی) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا: میں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا۔ ابوداؤد نے (مزید) کہا: اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔