حدیث نمبر: 451
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ " .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور ہر رکعت میں کوئی ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھی ہمیں بھی کوئی ایک آیت سنا دیتے اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے۔
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں فاتحہ اور ایک سورة پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار بلند آواز سے پڑھتے تھے کہ ہم بھی سن لیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سورة فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا ، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ ، عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : الم تَنْزِيلُ ، وَقَالَ : قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً " .
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ولید بن مسلم سے، انہوں نے ابوصدیق (ناجی) سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ «الم تَنْزِيلُ» (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا۔ امام مسلم کے استاد ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں «الم تَنْزِيلُ» (کا نام) ذکر نہیں کیا، انہوں نے کہا: تیس آیات کے بقدر۔
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ ، قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، أَوَ قَالَ : نِصْفَ ذَلِكَ ، وَفِي الْعَصْرِ ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِك " .
ابوعوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا: اس (پہلی دو) سے نصف۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف۔
حدیث نمبر: 453
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ ، شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَخْرِمُ عَنْهَا ، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاق " ،
ہشیم نے عبدالملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور (اس میں) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا، اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: یقیناً میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، اس میں کمی نہیں کرتا۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری دو میں تخفیف کرتا ہوں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق! آپ کے بارے میں گمان (بھی) یہی ہے۔
حدیث نمبر: 453
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 453
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : " قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأَمُدُّ فِي الأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ، وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ " ،
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) پہلی دو رکعتوں میں (قیام کو) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں، میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے۔
حدیث نمبر: 453
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ، وَزَادَ فَقَالَ : تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ .
مسعر نے عبدالملک (بن عمیر) اور ابوعون سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ (میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سیکھی ہے)۔
حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ، مِمَّا يُطَوِّلُهَا " .
عطیہ بن قیس نے قزعہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر (مسجد میں) آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔
حدیث نمبر: 454
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ : " أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ ، قُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ ، قُلْتُ : أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ ، فَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى " .
ربیعہ نے کہا: قزعہ نے مجھے حدیث سنائی، کہا: میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس (استفادے کے لیے) کثرت سے لوگ موجود تھے۔ جب یہ لوگ ان سے (رخصت ہو کر) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی: میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ میں نے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھ سکو گے)۔ انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا، اپنی ضرورت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے۔