کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنے والوں کی دلیل۔
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے ان میں سے کسی کو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھتے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ .
محمد بن (جعفر کے بجائے) ابوداؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: کیا آپ نے یہ روایت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ، وعن قتادة : أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا يَذْكُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ ، وَلَا فِي آخِرِهَا " .
عبدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے، «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» (اے اللہ! تو اپنی حمد و توصیف کے ساتھ، پاکیزگی و تقدس سے متصف ہے، تیرا نام ہی بابرکت ہے اور تیری عظمت و بزرگی بلند و بالا ہے، تیرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے قتادہ رحمہ اللہ کو بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ نماز کا آغاز «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے کرتے تھے، وہ قراءت کے شروع میں اور نہ ہی آخر میں «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ ذَلِكَ .
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصلاة / حدیث: 399
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»