حدیث نمبر: 332
332 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقُ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ»
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کر دیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی، تو نظر لگنا اس سے سبقت لے جاتا۔“