کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: «الماء من الماء» کے منسوخ ہونے کا بیان، اور غسل صرف ختنوں کے مل جانے سے ہی واجب ہو گا۔
حدیث نمبر: 348
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَهَا ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ " ، وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ : وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ ، قَالَ زُهَيْرٌ : مِنْ بَيْنِهِمْ بَيْنَ أَشْعُبِهَا الأَرْبَعِ ،
زہیر بن حرب، ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا: ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (مرد) اس (عورت) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: ”اگرچہ انزال نہ ہو۔“ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے (صرف) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبہا کہا۔ (دونوں ایک ہی لفظ شعبہ (شاخ) کی جمع ہیں۔)
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ : ثُمَّ اجْتَهَدَ وَلَمْ يَقُلْ : وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ .
فرق یہ ہے کہ شعبہ رحمہ اللہ کی اس روایت میں «ثُمَّ جَهَدَهَا» کی جگہ «ثُمَّ اجْتَهَدَ» محنت و کوشش کرتا ہے، اور «وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ» (اگرچہ انزال نہ ہو) کا لفظ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 349
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، وَهَذَا حَدِيثُهُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّونَ : لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ ، أَوْ مِنَ الْمَاءِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : بَلْ إِذَا خَالَطَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : فَأَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ ، فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأُذِنَ لِي ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّاهْ ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ ، وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ ، فَقَالَتْ : لَا تَسْتَحْيِي ، أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ ، أَنَا أُمُّكَ ، قُلْتُ : فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ ؟ قَالَتْ : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابوبردہ کے حوالے سے (ان کے والد) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا۔ انصار نے کہا: غسل صرف (منی کے) زور سے نکلنے یا پانی (کے انزال) سے فرض ہوتا ہے اور مہاجرین نے کہا: بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ (ابوبردہ نے) کہا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں، میں اٹھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا: میری ماں، یا کہا: ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں اور مجھے آپ سے شرم (بھی) آ رہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے (اپنے پیٹ سے) تمہیں جنم دیا، پوچھ سکتے تھے، وہ مجھ سے پوچھنے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں۔ میں نے کہا: تو کون سا (کام) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: تم (اس مسئلے کے متعلق) اس سے ملے ہو جو (اس سے) اچھی طرح باخبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (مرد) اس (عورت) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مس ہوئی تو غسل واجب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِنَّ رَجُلًا ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ ، يُجَامِعُ أَهْلَهُ ، ثُمَّ يُكْسِلُ ، هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ، ثُمَّ نَغْتَسِلُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے انسان کے بارے میں پوچھا، جو اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے، پھر انزال نہیں ہوتا، کیا ان پر غسل ہے؟ اور عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یہ (دونوں) یہ کام کرتے ہیں، پھر ہم دونوں نہاتے ہیں۔“