حدیث نمبر: 343
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ ، وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ عِتْبَانَ ، فَصَرَخَ بِهِ ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ ، فَقَالَ عِتْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ ، وَلَمْ يُمْنِ ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
عبدالرحمن بن ابی سعید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبا گیا، جب ہم بنو سالم کے محلہ میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور اسے آواز دی، وہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس انسان کو جلد بازی میں مبتلا کیا۔“ تو عتبان رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! بتائیے، اگر انسان بیوی سے جلدی الگ کر دیا جائے اور منی نہ نکلے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی، پانی سے واجب ہوتا ہے، غسل منی نکلنے سے واجب ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پانی سے واجب ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 344
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا ، كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
ابوعلاء بن شخیر سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دوسری کو منسوخ کر دیتی ہے، جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کر دیتی ہے۔ (یعنی اس مفہوم کی احادیث، آپ ہی کے اس فرمان کے ذریعے سے منسوخ ہو چکی ہیں جو بعد میں آئے گا۔)
حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، فَقَالَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِذَا أُعْجِلْتَ ، أَوْ أَقْحَطْتَ ، فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری انسان کے مکان سے گزرے تو اسے بلوایا، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ہم نے تجھے جلدی کرنے پر مجبور کر دیا۔“ اس نے کہا: ہاں! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں جلدی کرنی پڑے یا انزال نہ ہو سکے تو تم پر غسل لازم نہیں ہے، اور وضو ضروری ہے۔“
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يُكْسِلُ ، فَقَالَ : يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، وَيُصَلِّي " .
حماد اور ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوایوب سے، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے، پھر اسے انزال نہیں ہوتا۔ تو آپ نے فرمایا: ”بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 346
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْمَلِيِّ ، عَنِ الْمَلِيِّ يَعْنِي بِقَوْلِهِ الْمَلِيِّ ، عَنِ الْمَلِيِّ أَبُو أَيُّوبَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ قَالَ : فِي الرَّجُلِ يَأْتِي أَهْلَهُ ، ثُمَّ لَا يُنْزِلُ ، قَالَ : يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ، وَيَتَوَضَّأُ " .
شعبہ نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس مرد کے بارے میں جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر اسے انزال نہیں ہوتا، فرمایا: ”وہ اپنے عضو کو دھو لے اور وضو کرے۔“
حدیث نمبر: 347
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ، وَلَمْ يُمْنِ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : " يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ " ، قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: بتائیے، جب انسان اپنی بیوی سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، نماز کے وضو کی طرح کرے اور اپنے عضو کو دھو لے، عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 347
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، قَالَ يَحْيَى : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔