کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: غسل کرنے والی عورتوں کی مینڈھیوں کا حکم۔
حدیث نمبر: 330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي ، فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ : لَا ، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ " ،
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤ گی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 330
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 330
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا : أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : لَا ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ،
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا: ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: کیا میں حیض اور جنابت (کے غسل) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی (روایت) بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 330
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 330
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَفَأَحُلُّهُ ، فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ : الْحَيْضَةَ .
ایوب بن موسیٰ سے (سفیان ثوری کے بجائے) روح بن قاسم نے اسی (سابقہ سند) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ... انہوں (روح بن قاسم) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 330
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 331
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَال يَحْيَى : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْر ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : " بَلَغَ عَائِشَةَ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ ، أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ ، فَقَالَتْ : يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍ وَهَذَا ، يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ ، أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ ، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ ، لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ " .
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کریں۔ تو انہوں نے کہا: اس ابن عمرو پر تعجب ہے، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 331
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»