کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی ڈالنے کا مستحب ہونا۔
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَمَّا أَنَا ، فَإِنِّي أَغْسِلُ رَأْسِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا ، فَإِنِّي أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ " .
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل کے بارے میں جھگڑا کیا، بعض نے کہا، میں تو بس اتنی اتنی دفعہ سر دھو لیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو سر پر تین چلو ڈالتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 327
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " .
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے سلیمان بن صرد سے، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”لیکن میں، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 327
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 328
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ سَالِمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ ، سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَكَيْفَ بِالْغُسْلِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " ، قَالَ ابْنُ سَالِمٍ فِي رِوَايَتِهِ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، وَقَالَ : إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ .
یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل بن سالم نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے ابوبشر سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ثقیف کے وفد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور کہا: ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لیکن میں، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں۔“ ابن سالم نے اپنی روایت میں کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے ابوبشر نے بتایا اور کہا: بلاشبہ ثقیف کے وفد نے (سوال پوچھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے) کہا: اے اللہ کے رسول!
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 328
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ جَنَابَةٍ ، صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِنَ مَاءٍ ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ : إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ، قَالَ جَابِرٌ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ ، وَأَطْيَبَ " .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، سر پر پانی کے تین چلو ڈالتے تو حسن بن محمد رحمہ اللہ نے، جابر سے کہا: میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، جابر نے اس سے کہا: اے بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تجھ سے زیادہ اور پاکیزہ تھے، (اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین چلو سر کے لیے کافی تھے تو تیرے لیے کافی کیوں نہیں؟)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 329
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»