حدیث نمبر: 310
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ : بَلْ أَنْتِ ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ ، نَعَم ، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (جو اسحاق کی دادی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! عورت نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنے بارے میں دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، ہاں اے ام سلیم! جب وہ یہ منظر دیکھے تو غسل کرے۔“
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ : أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنَ الْمَرْأَةِ ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ ، فَلْتَغْتَسِلْ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : وَهَلْ يَكُونُ هَذَا ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا ، أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ " .
قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انہیں) بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے۔“ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں: کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنَ الْمَرْأَةِ ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے۔“
حدیث نمبر: 313
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ : تَرِبَتْ يَدَاكِ ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ حق کے بارے میں پوچھنے اور بیان کرنے میں حیا محسوس نہیں کرتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو وہ نہائے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب منی کا پانی دیکھے۔“ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! عورت کو بھی احتلام ہو جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " فَضَحْتِ النِّسَاءَ " .
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے کہا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں موجود تھیں، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی۔)
حدیث نمبر: 314
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : أُفٍّ لَكِ ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ ؟ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (ابو طلحہ کی بیوی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آگے ہشام رحمہ اللہ کی روایت جیسی روایت سنائی، ہاں اتنا فرق ہے کہ عروہ رحمہ اللہ نے کہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، تجھ پر افسوس، کیا عورت کو بھی یہ نظر آتا ہے؟
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ سَهْلٌ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعِيهَا ، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا ، أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ " .
مسافع بن عبداللہ نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا: تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، کیا (بچے کی) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے! جب (نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔“