کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور حائضہ کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں ٹیک لگانے اور اس کی گود میں قرآن پڑھنے کا جواز۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ ، إِلَّا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ " .
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کرتے تو اپنا سر (گھر کے دروازے سے) میرے قریب کر دیتے، میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ انسانی ضرورت کے بغیر گھر میں تشریف نہ لاتے تھے۔
حدیث نمبر: 297
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ ، إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ ، إِلَّا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا ، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ : إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ " .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: (جب میں اعتکاف میں ہوتی تو) قضائے حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی، اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں بس گزرتے گزرتے ہی اس سے (حال) پوچھ لیتی اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے میرے پاس (حجرے میں) سر داخل فرماتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی، جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں کسی (حقیقی) ضرورت کے بغیر داخل نہ ہوتے۔ ابن رمح نے (”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے“ کے بجائے) ”جب سب لوگ اعتکاف میں ہوتے“ کہا۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُجَاوِرٌ ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
محمد بن عبدالرحمن بن نوفل نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مسجد سے میری طرف سر نکالتے تو میں ایام خصوصی میں ہوتے ہوئے اس کو دھو دیتی۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
ہشام نے کہا: عروہ نے ہمیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اعتکاف کی حالت میں) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا حَائِضٌ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں حالت حیض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 298
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، مجھے جائے نماز پکڑا دو، میں نے عرض کیا، میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : تَنَاوَلِيهَا ، فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے حکم دیا کہ آپ کو جائے نماز پکڑاؤں، میں نے عرض کیا، میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: ”اسے لے آ، حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، نَاوِلِينِي الثَّوْبَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ، فَنَاوَلَتْهُ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے (نماز کا) کپڑا پکڑا دو۔“ تو انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا۔
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ، فَيَشْرَبُ ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ : فَيَشْرَبُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حیض کی حالت میں پانی پی کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ، میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پیتے، اور میں ہڈی سے گوشت چونڈتی جبکہ میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے، زہیر رحمہ اللہ نے «فيشرب» کا لفظ بیان نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ " .
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حیض کی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بناتے اور قرآن پڑھتے۔
حدیث نمبر: 302
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ الْيَهُودَ ، كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ ، لَمْ يُؤَاكِلُوهَا ، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ ، إِلَّا النِّكَاحَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ ، فَقَالُوا : مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ ، أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا ، إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ ، تَقُولُ : كَذَا وَكَذَا ، فَلَا نُجَامِعُهُنَّ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَا ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا ، فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی: ”یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے، یہ اذیت (کا وقت) ہے، اس لیے محیض (مقام حیض) میں عورتوں (کے ساتھ مجامعت) سے دور ہو“ آخر تک۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کے سوا سب کچھ کرو۔“ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے: یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ (یہ سن کر) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو کیا ہم ان (عورتوں) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ دونوں نکل گئے، آگے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ہدیہ آ رہا تھا، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو (بلوا کر) دودھ پلایا، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے۔