حدیث نمبر: 312
312 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ مَالِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَايِضٌ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدَيْنِ؟ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ يَتْلُو الْقُرْآنَ، وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَقُومُ إِلَيْهِ بِخُمْرَتِهِ فَتَبْسُطُهَا لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا» أَيْ بُنَيَّ فَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
منبود مکی اپنی والدہ کا بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے ہاں تشریف لائے، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میرے بال سنوارنے والی ام عمار حیض کی حالت میں ہے تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھوں سے کیا واسطہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ہم (ازواج) میں سے کسی ایک کی گود میں رکھ دیتے تھے وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کر لیا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی ایک اپنی چادر لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیتی تھی، حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر پر نماز ادا کر لیتے تھے۔ اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ کے ساتھ کیا واسطہ؟