حدیث نمبر: 280
280 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَي فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ كَرَاهِيَةً فَقَالَ «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ» قَالَتْ: فَأَرْضَعَتْهُ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتٍ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ مُنْذُ أَرْضَعْتُهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، سہلہ بنت سہیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کیا: میں نے سالم کے اپنے ہاں آنے کی وجہ سے اپنے شوہر سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے (یعنی سالم) کو اپنا دودھ پلا دو۔“ میں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں؟ حالانکہ وہ بڑی عمر کا شخص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پتہ ہے وہ بڑی عمر کا شخص ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو دودھ پلا دیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو اس نے عرض کی جب سے میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے اس کے بعد مجھے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جو نا پسند ہو۔ عبدالرحمان بن قاسم کہتے ہیں: سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔