حدیث نمبر: 250
250 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» قَالَتْ: قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالُوا؟ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ: «قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «وَعَلَيْكُمْ» فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ تَرَكَ الْوَاوَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! سام علیک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علیکم۔“ (تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کہا: بلکہ تم کو موت بھی آئے اور تم پر لعنت بھی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں نے یہ کہہ دیا ہے: تمہیں بھی آئے۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت میں یہ الفاظ کہتے تھے ”اور تمہیں بھی آئے“ تو جب انہیں اس پر تنبیہہ کی گئی تو انہوں نے حرف ”و“ کو ترک کر دیا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت میں یہ الفاظ کہتے تھے ”اور تمہیں بھی آئے“ تو جب انہیں اس پر تنبیہہ کی گئی تو انہوں نے حرف ”و“ کو ترک کر دیا۔