مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: حدیث نمبر 222
حدیث نمبر: 222
222 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: حَضَرْتُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ فِي الْجَنَازَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَجَلَسْتُ بَيْنَهُمَا فَبَكَي النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ لِلْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: صَدَرْنَا مَعَ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّي إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ نُزُولٍ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَانْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ فَالْحَقْنِي قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا صُهَيْبٌ مَوْلَي ابْنِ جُدْعَانَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْنِي، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثُ عُمَرُ أَنْ طُعِنَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ وَهُوَ يَقُولُ وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ مَهٍ يَا صُهَيْبُ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَضَي اللَّهُ ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَي﴾ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں شریک ہوا جنازے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ خواتین نے رونا شروع کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: زندہ شخص کے میت پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: (ایک مرتبہ) ہم لوگ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مکہ سے) واپس آ رہے تھے، جب ہم ”بیداء“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں کچھ سوار ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ! تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں؟ پھر میرے پاس آؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں گیا، میں نے واپس آ کر بتایا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان سے کہو کہ ہمارے ساتھ مل لیں، جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو کچھ ہی عرصے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: رک جاؤ اے صہیب! میت کو زندہ شخص کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولیں: اللہ تعالیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔“ (یعنی عذاب کے ساتھ اسے اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے)۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے: «وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» ”کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث تخریج « إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري 1286، 1287، 1288، ومسلم: 929، 930، 932، وابن حبان فى ”صحيحه“ : 3135، 3136، 3137 ، وأحمد فى ”مسنده“ ، برقم: 295»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔