حدیث نمبر: 218
218 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا يَنْضَخُ مِنِّي رِيحُ الطِّيبِ، وَلَأَنْ أَتَمَسَّحَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْهُ قَالَ أَبِي فَأَرْسَلَ بَعْضُ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ إِلَي عَائِشَةَ؛ لِيُسْمِعَ إِيَّاهُ مَا قَالَتْ: فَجَاءَ الرَّسُولُ فَقَالَ: قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَسَكَتَ ابْنُ عُمَرَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابراھیم بن محمد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام والے شخص کے احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور مجھ سے خوشبو آ رہی ہو میں تارکول لگا لوں یہ میرے لیے اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا۔ میرے والد کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادوں میں سے کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا، تاکہ وہ اپنے والد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے بارے میں بتا سکیں، تو پیغام رساں آیا اور اس نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خاموش رہے۔