حدیث نمبر: 211
211 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: نا سُفْيَانُ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ يُخْبِرُ بِهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا مِمَّا يَعْتَزِلُهُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَتْرُكُهُ» قَالَتْ عَائِشَةُ: وَمَا نَعْلَمُ الْحَاجَّ يُحِلُّهُ شَيْءٌ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے ان دو ہاتھوں کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار تیار کیا کرتی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز سے الگ نہیں ہوتے تھے، جس سے احرام والا شخص علیحدگی اختیار کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی کسی چیز کو چھوڑتے نہیں تھے (جسے احرام والا شخص چھوڑتا ہے)۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: ہمارے علم کے مطابق حاجی شخص اس وقت مکمل طور پر حلال ہوتا ہے، جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے۔