کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: پیشاب یا نجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 284
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ ، قَالَ : فَلَمَّا فَرَغَ ، دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ " .
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا، بعض لوگ اس کی طرف اٹھ کر چلے (تاکہ اس کو روک دیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑو، اس کا پیشاب درمیان میں مت روکو۔“ جب وہ فارغ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ڈول منگوایا، اور اسے اس پر ڈال دیا۔
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَبَالَ فِيهَا فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ " ، فَلَمَّا فَرَغَ ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ .
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی کا) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس (پیشاب) پر بہا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ ، مَهْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزْرِمُوهُ ، دَعُوهُ " ، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ ، وَلَا الْقَذَرِ ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالصَّلَاةِ ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ " ، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اس دوران، اچانک ایک بدوی آیا، کھڑے ہو کر پیشاب کرنا شروع کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا، رک جا، رک جا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا بول درمیان میں مت کاٹو، اسے چھوڑو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے چھوڑ دیا، حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ مساجد پیشاب یا کسی اور گندگی کے مناسب نہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔“ یا جو الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔