کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: موزوں پر مسح کرنا۔
حدیث نمبر: 272
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : " بَالَ جَرِيرٌ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقِيلَ : تَفْعَلُ هَذَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " ، قَالَ الأَعْمَشُ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ ، لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ .
ہمام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: آپ یہ کام کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند تھی، کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 272
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الأَعْمَشِ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى ، وَسُفْيَانَ ، قَالَ : فَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ ، لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ .
امام صاحب رحمہ اللہ مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں: کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسند تھی، کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ ، فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کچھ لوگوں کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو میں دور ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جا!“ تو میں قریب ہو کر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا (فراغت کے بعد) آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 273
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو مُوسَى ، يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ ، وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ ، لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ ، فَبَالَ ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ ، حَتَّى فَرَغَ " .
منصور نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے: بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنے حصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا۔ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب (استاد) اس قدر سختی نہ کرے، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر آئے، آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتیٰ کہ آپ فارغ ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ : مَكَانَ حِينَ ، حَتَّى .
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے نافع بن جبیر سے، انہوں نے عروہ بن مغیرہ سے، انہوں نے اپنے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے نکلے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے برتن لے کر آئے جس میں پانی تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔“ ابن رمح رحمہ اللہ کی روایت میں «حب» کے بجائے ”یہاں تک کہ (آپ فارغ ہو گئے)“ کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَيَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ .
یحییٰ بن سعید کے ایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا، پھر موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، إِذْ نَزَلَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ كَانَتْ مَعِي ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ اسی اثنا میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ اترے اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے اس برتن سے جو میرے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : يَا مُغِيرَةُ ، خُذْ الإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى " .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ایک سفر میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! پانی کا برتن لو۔“ میں نے برتن لے لیا اور آپ کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے۔ اپنی ضرورت پوری کی، پھر آپ واپس آئے اور آپ تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، تو آپ اس آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے لگے، وہ اس سے تنگ نکلا (ہاتھ نہ نکل سکا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو نیچے سے نکال لیا، میں نے آپ کے اعضاء پر پانی ڈالا، تو آپ نے نماز والا وضو فرمایا، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جميعا ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَهُمَا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا " .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو جب واپس آئے، میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا، اور آپ کے اعضاء پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھونے لگے، تو جبہ تنگ نکلا، تو آپ نے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے اور ان کو دھویا، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ ، فَقَالَ لِي : أَمَعَكَ مَاء ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا ، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ ، فَقَالَ : دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ، وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .
زکریا نے عامر (شعبی) سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: ایک رات میں سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے، پھر پیدل چل دیے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے، پھر (واپس) آئے تو میں نے برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے اپنا چہرہ دھویا (اس وقت) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا: ”ان کو چھوڑو، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے۔“ اور ان پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
حدیث نمبر: 274
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : فَقَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " .
عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں (مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ مغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) بات کی تو آپ نے فرمایا: ”میں نے انہیں باوضو حالت میں (موزوں میں) داخل کیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 274
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»