حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَي وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قِيلَ لَهُ : قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : فَقَالَ : أَجَلْ لَقَدْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ ، أَوْ بَوْلٍ ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ " .
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ان سے (طنزاً) پوچھا گیا: کہ تمہارے نبی نے تم لوگوں کو سب باتوں کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ پاخانہ کرنے کا طریقہ بھی (سکھایا ہے)، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! (ہمیں سب کچھ سکھایا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، کہ ہم پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کریں، یا یہ کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجا کریں، یا یہ کہ ہم استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں، یا یہ کہ ہم استنجا کریں کسی چوپائے کے فضلے (گوبر) یا ہڈی سے۔
حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ : " إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ، فَقَالَ : أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ ، وَقَالَ : لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ " .
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ہمیں (بعض) مشرکوں نے کہا: میرا خیال ہے، تمہارا ساتھی تمہیں ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتاتا ہے، تو اس (سلمان رضی اللہ عنہ) نے کہا: ہاں! انہوں نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے، یا قبلہ کی طرف منہ کرے، اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی کے استعمال سے روکا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 263
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ ، أَوْ بِبَعْرٍ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا مینگنی (لیڈنا) سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 264
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح قَالَ : وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا ، بِبَوْلٍ ، وَلَا غَائِطٍ ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا ، أَوْ غَرِّبُوا " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ ، فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا ، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، قَالَ : نَعَمْ .
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی (الفاظ انہی کے ہیں) کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا: کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔“ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے؟ (سفیان نے) کہا: ہاں۔
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے۔“
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي ، انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، يَقُولُ نَاسٌ : إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ ، فَلَا تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، وَلَا بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ " .
واسع بن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلہ کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، تو جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی، ایک طرف سے ان کی طرف مڑا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں جب تم اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بیٹھو، تو قبلہ کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر (بیت المقدس کی طرف رخ کر کے) بیٹھے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ " .
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کچھ لوگ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو، جو بھی ہو، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔