حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا ، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ مٹا دے، اور اس سے درجات بلند فرمائے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکالیف کے باوجود مکمل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مساجد میں پہنچنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی اپنے آپ کو پابند بنانا ہے۔“
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِكْرُ : الرِّبَاطِ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ثِنْتَيْنِ : فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ .
(مالک رحمہ اللہ اور شعبہ رحمہ اللہ) نے علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے روایت سنائی، شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ”رباط“ کا ذکر نہیں، اور مالک رحمہ اللہ کی روایت میں: «فَذَلِكُمُ ٱلرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ ٱلرِّبَاطُ» دو دفعہ ہے۔