حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ، ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى ، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ ، فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ " .
نعیم بن عبداللہ مجمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے چہرہ مکمل دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا، حتیٰ کہ بازو کا بھی ایک حصہ دھویا، پھر اپنا بایاں ہاتھ دھویا، حتیٰ کہ بازو کا کچھ حصہ بھی دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا، حتیٰ کہ پنڈلی تک پہنچے، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا یہاں تک کہ پنڈلی کا کچھ حصہ دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن کامل وضو کرنے کی وجہ سے روشن و منور چہرے اور روشن اور منور ہاتھ پاؤں والے ہو گے، تو تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی چمک اور روشنی کو بڑھا سکے، بڑھا لے۔“
حدیث نمبر: 246
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ ، فَلْيَفْعَلْ " .
نعیم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے۔ پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے، حتیٰ کہ پنڈلیوں تک پہنچ گئے۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میرے امتی قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہرہ اور چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، تم میں سے جو اپنی روشنی اور نورانیت بڑھا سکے، تو ایسا کرے۔“
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَكُمْ سِيمَا ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " .
مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔“
حدیث نمبر: 247
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ ، وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ ، فَلَا يَصِلُونَ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي ، فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ ، فَيَقُولُ : وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ؟ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اس سے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ جیسے ایک مرد اپنے اونٹوں سے دوسرے انسان کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔“ انہوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی میں نہیں ہو گی۔ تم میرے پاس وضو کے اثرات کی بنا پر روشن چہرے، چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ تو مجھے ایک فرشتہ جواب دے گا: اور کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے کام نکالے تھے۔“
حدیث نمبر: 248
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ ، كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ ، عَنْ حَوْضِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ " .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو ہٹاؤں گا، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَى الْمَقْبُرَةَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا ، قَالُوا : أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، فَقَالُوا : كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا ، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي ، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ ، أَلَا هَلُمَّ ؟ فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا ، سُحْقًا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں پہنچے اور فرمایا: ”اے مومنوں کے گروہ! تم پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہوتا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی، وہ لوگ ہیں جو ابھی تک دنیا میں نہیں آئے۔“ تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کے وہ لوگ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، آپ ان کو کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ”بتائیے! اگر کسی کے روشن چہرہ، روشن ہاتھ پاؤں والے گھوڑے (یعنی پانچ کلیان) ایسے گھوڑوں میں ہوں جو خالص سیاہ ہوں، تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان نہیں لے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ وضو کی بنا پر، روشن رو، روشن ہاتھ پاؤں آئیں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے ہٹائے جائیں گے جیسے بھٹکا ہوا اونٹ دور ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو آواز دوں گا: خبردار! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد اپنے آپ کو بدل لیا تھا۔ (آپ کے راستہ یا طرز عمل میں آمیزش کردی تھی) تو میں کہوں گا: ”دور دور ہو جاؤ!““
حدیث نمبر: 249
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ جَمِيعًا ، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ " ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ : فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ ، عَنْ حَوْضِي .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے، اور فرمایا: ”اے مومنوں کے گھروں کے باسیو! تم پر سلامتی ہو! اور جب اللہ کو منظور ہو گا، تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل جائیں گے۔“ امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: ”کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔“