حدیث نمبر: 227
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ لآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا ، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، فَيُصَلِّي صَلَاةً ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا " ،
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے صحن میں سنا، عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا، تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اگر کتاب اللہ کی ایک آیت (علم چھپانے کی وعید کے بارے میں) نہ ہوتی، تو میں تمہیں نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان آدمی اچھی طرح وضو نہیں کرتا کہ اس سے کوئی نماز پڑھے، مگر اللہ تعالیٰ اس کی اس نماز اور اس سے پیوستہ (بعد والی) نماز کے درمیان کے گناہ (صغیرہ) معاف کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 227
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ .
ہشام سے (جریر کے بجائے) ابواسامہ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی۔ ان میں ابواسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ”اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 227
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا ، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا " ، قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ : إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى قَوْلِهِ اللَّاعِنُونَ سورة البقرة آية 159 .
حمران رحمہ اللہ نے کہا: جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا، تو کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی، تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور وہ اپنے وضو کو اچھی طرح کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، تو اسے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے: ”جو لوگ ان دلائل اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، جو ہم نے اتارے ہیں۔“ سے لے کر «اللَّاعِنُونَ» ”لعنت کرنے والوں“ تک۔ (البقرة: 159)
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ عَبد ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا ، وَخُشُوعَهَا ، وَرُكُوعَهَا ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ ، مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً ، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید بن عاص سے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن عمرو) سے اور انہوں نے اپنے والد (عمرو بن سعید) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے، اور یہ بات ہمیشہ کے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : " أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ .
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران رحمہ اللہ سے روایت سنائی: کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لایا، تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بیان کرتے ہیں، جن کی حقیقت کو میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے، اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا نفل (زائد ثواب کا باعث) ہو گا۔“ ابن عبدہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے وضو کیا۔
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " ، وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ أَبُو النَّضْرِ : عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، قَالَ : وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: (اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کے ہیں) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابونضر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوانس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا، پھر کہا: ’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو (کر کے) نہ دکھاؤں؟‘ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: سفیان نے کہا: ابونضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے۔
حدیث نمبر: 231
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ : كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ ، إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً ، وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أُرَاهَا الْعَصْرَ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ ، أَوْ أَسْكُتُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا " .
مسعر نے ابوصخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟“ ہم نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔“
حدیث نمبر: 231
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا جَمِيعًا ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ ، وَلَا ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ .
عبیداللہ بن معاذ نے اپنے والد سے اور محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے محمد بن جعفر (غندر) سے روایت کی، ان دونوں (معاذ بن معاذ اور محمد بن جعفر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے جامع بن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ بشر بن مروان کے دورِ امارت میں اس مسجد میں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کو مکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو (اس کی) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے۔“ یہ عبیداللہ بن معاذ کی روایت ہے، غندر کی حدیث میں بشر بن مروان کے دورِ حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے।
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : " تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا ، وُضُوءًا حَسَنًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ " .
حمران رحمہ اللہ (مولیٰ عثمان) سے روایت ہے، کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کو محض نماز کے ارادے سے گیا، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 232
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ ، أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ " .
معاذ بن عبدالرحمن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔“