حدیث نمبر: 72
72 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ السُّوَائِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّي زَعَمُوا أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي بِهِمْ فَقَالَ سَعْدٌ: «أَمَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ آلُو بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» قَالَ: فَسَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ، ذَلِكَ الظَّنُ بِكَ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
جابر بن سمرہ سوائی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ کہے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! اہل کوفہ نے تمہاری ہر معاملے میں شکایت کی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے تم انہیں صحیح طریقے سے نماز نہیں پڑھاتے ہو، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ظہر اور عصر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کے مطابق، نماز پڑھانے کے حوالے سے، میں ان کے ساتھ کوتاہی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات کچھ مختصر کر دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔ تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔“