مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: (جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی روایت)
حدیث نمبر: 51
51 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَامَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا حَدَّثَنَا بِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحِ، وَلَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ فَإِذَا وَقَفْنَاهُ عَلَيْهِ يُدْخِلُ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ أَبَا مَعْمَرٍ وَكَانَ لَا يَقُولُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے ایک مرتبہ کھڑے ہوئے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل نہیں کیا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سفیان بعض اوقات اس روایت کو ابونجیح اور لیث کے حوالے سے مجاہد کے حوالے سے ابومعمر سے نقل کرتے تھے، تو جب ہم نے اس پر مشتبہ کیا، تو انہوں نے ابن ابونجیح کی روایت میں ابومعمر کو بھی شامل کر دیا وہ لفظ ”حدثنا“ صرف اس وقت استعمال کرتے تھے، جب دونوں راویوں میں سے ہر ایک نے لفظ ”حدثنا“ استعمال کیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 51
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث تخریج « إسنادہ صحيح ، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: :231/1 برقم: 266، صحیح مسلم/الجنائز 962، وابوداو: 3175، سنن النسائی/الجنائز 81 2001، سنن الترمذی/الجنائز 52 1044، سنن ابن ماجہ/ الجنائز 35 1544، تحفة الأشراف: 10276، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الجنائز 11 33، مسنده احمد 1/82، 83، 131، 138 صحیح»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔