مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثمسند الحميديابوابباب: (جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی روایت اور دوبارہ نہ کرنے کی بات)
حدیث نمبر: 50
50 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ: كَانُوا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا أَمَرَ أَبُو مُوسَي الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ عَلِيٌّ: " إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً وَلَمْ يَعُدْ
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
عبداللہ بن سخبرہ ازدی بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگ اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی: سیدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اس (جنازے) کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہ عمل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند الحميدي / حدیث: 50
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث تخریج « إسنادہ ضعیف، ولکن متن صحیح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: :231/1 برقم: 266، صحیح مسلم/الجنائز 25، 962، وابوداو: 3175، سنن النسائی/الجنائز 81 2001، سنن الترمذی/الجنائز 52 1044، سنن ابن ماجہ/ الجنائز 35 1544، تحفة الأشراف: 10276، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الجنائز 11 33، مسنده احمد 1/82، 83، 131، 138 صحیح»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔