حدیث نمبر: 40
40 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
ابوحجیفہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہو، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے (ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے) صرف وہ چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی کتاب کے بارے میں فہم عطا کر دیتا ہے یا وہ کچھ ہے، جو اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے دریافت کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیت کے بارے میں، قیدی کو رہائی دلانے کے بارے میں (احکام ہیں اور یہ حکم ہے کہ) کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔