حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ جُدْعَانَ ، كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ ؟ قَالَ : لَا يَنْفَعُهُ ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلۂ رحمی کرتا تھا، اور محتاجوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ عمل اس کے لیے نافع ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نافع نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے کبھی (کسی ایک دن) بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! حساب و کتاب کے دن میری خطائیں معاف فرمانا۔“