کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 209
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ ، وَلَوْلَا أَنَا ، لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " .
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور دفاع کرتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غضب ناک ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”ہاں! وہ آگ میں ٹخنوں تک ہے، اگر میں نہ ہوتا (اس کی سفارش نہ کرتا)، تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ " .
سفیان (بن عیینہ) نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے، تو کیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟‘ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میں نے انہیں آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو انہیں کم گہری آگ تک نکال لایا۔“
حدیث نمبر: 209
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ .
سفیان (ثوری) نے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے ابوعوانہ نے بیان کی۔
حدیث نمبر: 210
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ " .
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی (کم گہری) آگ میں ڈالا جائے گا جو (بمشکل) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی، اس سے (بھی) ان کا دماغ کھولے گا۔“