حدیث نمبر: 204
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا ، فَاجْتَمَعُوا ، فَعَمَّ ، وَخَصَّ ، فَقَالَ : يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي هَاشِمٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا فَاطِمَةُ ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری: ”اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ (الشعراء: 214) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا، جب جمع ہوگئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب میں عام اور خاص لوگوں کو مخاطب فرمایا: ”اے کعب بن لوئی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے مرّہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لو! اے عبدشمس کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے ہاشمیو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں (اگروہ تمھیں پکڑنا چاہے) تمھارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ ہاں اتنی بات ہے، تمھارے ساتھ رشتہ داری ہے، میں اس کو جوڑتا رہوں گا، میں اس طراوت کی وجہ سے اس کو تر رکھوں گا۔“
حدیث نمبر: 204
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ ، أَتَمُّ وَأَشْبَعُ .
عبدالملک سے (جریر کے علاوہ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا ، فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“
حدیث نمبر: 206
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۂ شعراء کی آیت: «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» (الشعراء: 214) اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو (ایمان لا کر نیک اعمال کر لو)، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ کے مقابلہ میں تمھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، اے عبدالمطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے مقابلہ میں تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ! میں تم سے اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے سامنے تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔“
حدیث نمبر: 206
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ هَذَا .
ایک اور سند سے اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا : " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ ، إِنِّي نَذِيرٌ ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ : يَا صَبَاحَاهْ " ،
یزید بن زریع نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ ”اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے، پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’وائے اس کی صبح (کی تباہی!)‘“
حدیث نمبر: 207
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 208
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا ، فَهَتَفَ : يَا صَبَاحَاهْ ، فَقَالُوا : مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي فُلَانٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ ؟ قَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا ، قَالَ : فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا ، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ،
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ جب یہ آیت اتری: ”اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ اور ان میں سے خاص کر اپنے خاندان کے سچے اور مخلص لوگوں کو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر صفا پہاڑ پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ”دفاع کے لیے تیار ہو جاؤ!“ لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: یہ کون آواز دے رہا ہے؟ جواب ملا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد!“ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”بتاؤ! اگر میں تمھیں اطلاع دوں، کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انھوں نے کہا: ہم نے تمھیں کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھیں سخت عذاب (کی آمد) سے پہلے ڈرا رہا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا: تم ہلاک ہو جاؤ! کیا تو نے ہمیں اس خاطر جمع کیا تھا؟ پھر وہ کھڑا ہو گیا، تو اس پر یہ سورت اتری! «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ» ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے۔“ یقیناً وہ خود ہلاک ہوا۔ (سورۂ لہب) اعمش رحمہ اللہ نے پوری سورت قراءت کی اور «قَد تَبَّ» کے اضافے سے پڑھا۔
حدیث نمبر: 208
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا ، فَقَالَ : " يَا صَبَاحَاهْ " ، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کوہِ صفا پر چڑھے اور فرمایا: «يَا صَبَاحَاهُ» ابو اسامہ رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی۔ لیکن آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» کے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔