مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
حدیث نمبر: 184
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ : انْظُرُوا ، مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ؟ " ،
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا، پھر فرمائے گا: دیکھو (اور) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو، (ایسے) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد، لپٹا ہوا، اگتا ہے؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 184
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الايمان، باب: تفاضل اهل الايمان في الاعمال برقم (22) وفي الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6560) انظر ((التحفة)) برقم (4407)»
حدیث نمبر: 184
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا : فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ : الْحَيَاةُ ، وَلَمْ يَشُكَّا ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ : كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ .
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ اس میں ہے: ”انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے۔“ اور دونوں نے (پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں) کوئی شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں (یہ) ہے: ”جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں۔“ اور وہیب کی روایت میں ہے: ”جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 184
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (456)»
حدیث نمبر: 185
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا ، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ ، أَوَ قَالَ : " بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً ، حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا ، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ قِيلَ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ .
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہے دوزخی جو اس کے رہائشی ہیں، وہ نہ اس میں مریں گے اور نہ زندہ ہوں گے، لیکن وہ (اہل ایمان) لوگ، جو گناہوں کی پاداش میں یا آپ نے فرمایا: ’قصوروں کی بنا پر آگ میں جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک قسم کی موت طاری کر دے گا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں گے، سفارش کے تحت اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں میں پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو، تو وہ اس قدرتی بیج کی طرح نشو و نما پائیں گے، جو سیلاب کے بہاؤ کے ساتھ آنے والی مٹی میں ہوتا ہے۔“ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگل میں رہے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: ذكر الشفاعة برقم (4309) انظر ((التحفة)) برقم (4346)»
حدیث نمبر: 185
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، إِلَى قَوْلِهِ : فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت ’فِي حَمِيلِ السَّيْلِ‘ تک بیان کی، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (458)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔