کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
حدیث نمبر: 174
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
عباد بن عوام نے کہا: ہمیں شیبانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» ’’وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے۔‘‘ زر نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے زر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے، جو دیکھا‘‘ پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں «لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰ» ”آپ نے یقیناً اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں“ منقول ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو اس کی اصل صورت میں دیکھا، اس کے چھ سو پر تھے۔“
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ : " رَأَى جِبْرِيلَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (اللہ کے فرمان) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے دیکھا‘‘ (کے بارے میں کہا): ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا۔“
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رَآهُ بِقَلْبِهِ " .
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) دل سے دیکھا۔
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11 ، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، قَالَ : " رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ " ،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابوجہمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا‘‘ اور «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» ’’اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا‘‘ (کے بارے میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) اپنے دل سے دو بار دیکھا۔
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَت : يَا أَبَا عَائِشَةَ ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، قُلْتُ : مَا هُنَّ ؟ قَالَتْ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، قَالَ : وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي ، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23 ، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 ، فَقَالَتْ : أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ ، سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا ، غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ ، سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ " ، فَقَالَتْ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 ؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ : وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ سورة الشورى آية 51 ؟ قَالَتْ : وَمَنْ زَعَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ ، وَاللَّهُ يَقُولُ : يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67 ، قَالَتْ : وَمَنْ زَعَمَ ، أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَة ، وَاللَّهُ يَقُولُ : قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65 ،
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے ابو عائشہ! (مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں، جو کوئی ان میں سے کسی کا قائل ہوا اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔“ میں نے پوچھا: وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، تو اس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت بڑا جھوٹ بولا۔“ مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا، تو سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا: اے مومنوں کی ماں! مجھے بات کرنے کا موقع دیجیے! مجھ سے جلدی نہ کیجیے، کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے؟ «لَقَدْ رَأَهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ» (تکویر: 23) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» (نجم: 13) ”اور انہوں نے اسے ایک اور بار اترتے دیکھا۔“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کو ان دو دفعہ کے علاوہ ان کی اصل صورت میں جس میں وہ پیدا کیے گئے ہیں، نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں ایک دفعہ آسمان سے اترتے دیکھا۔ ان کی جسامت کی بڑائی نے آسمان و زمین کا درمیان بھر دیا تھا۔“ پھر ام المومنین نے فرمایا: ”کیا تو نے اللہ کا فرمان نہیں سنا: «لَا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ» (انعام: 103) ”آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے (آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے) اور وہ باریک بین خبردار ہے۔“ اور تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا؟ «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» (شوریٰ: 51) ”اور کسی بشر میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ، یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی رسول فرشتے کو بھیجے۔ جو اللہ کی مرضی سے جو وہ چاہے وحی کرے۔ بلا شبہ وہ بلند اور حکیم ہے۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا، تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ» (مائدہ: 67) ”اے رسول! تیرے رب کی طرف سے تجھ پر جو کچھ اتارا گیا ہے، پہنچا دیجیے۔ اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے فریضہ رسالت ادا نہیں کیا۔“ اور انہوں نے فرمایا: ”اور جو شخص یہ کہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات کی خبر دیتے تھے، تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ» (نمل: 65) ”فرما دیجیے! جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کے سوا وہ غیب نہیں جانتا۔“
حدیث نمبر: 177
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ ، قَالَتْ : " وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 " ،
اور اسی سند سے ابن علیہ رحمہ اللہ جیسی حدیث بیان کرتے ہیں اور جس میں یہ اضافہ ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ اتارا گیا ہے، اس کو چھپانے والے ہوتے تو یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ» (الأحزاب: 37) ”اس وقت کو یاد کرو! جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے احسان فرمایا اور آپ نے انعام فرمایا، کہہ رہے تھے، اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو، اور آپ اپنے جی میں وہ چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں کے (طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ ڈرنے کا حق دار اللہ ہی ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔“
حدیث نمبر: 177
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ ؟ فَقَالَتْ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصته وحديث داود ، أتم ، وأطول .
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو انہوں نے تعجب سے کہا: «سُبْحَانَ اللہِ» سبحان اللہ! تیری بات سے میرے بال کھڑے ہو گئے ہیں۔ (رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں) اسماعیل رحمہ اللہ نے حدیث واقعہ سمیت بیان کی، لیکن داؤد رحمہ اللہ کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے۔
حدیث نمبر: 177
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى { 8 } فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى { 9 } فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى { 10 } سورة النجم آية 8-10 ؟ قَالَتْ : " إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ فِي هَذِهِ الْمَرَّةِ فِي صُورَتِهِ ، الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ ، فَسَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ " .
حضرت مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، اللہ کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟ «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ۖ فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰ» ”تو وہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب آگیا، پھر اس نے وحی کی اس بندے کی طرف جو وحی کی۔“ اس نے (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ”اس سے مراد تو بس جبریل علیہ السلام ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مردوں کی صورت (شکل) میں آتے۔ اس مرتبہ وہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت جو اس کی صورت ہے، میں آئے تو آسمان کو بھر دیا۔“