حدیث نمبر: 173
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَال ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا ، يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الأَرْضِ ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا ، قَالَ : إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16 ، قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ؟ قَالَ : فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ، أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ " .
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، وہ چھٹے آسمان پر ہے، اس کے پاس جا کر وہ چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے، رک جاتی ہیں اور وہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے۔ اور اس کے پاس آ کر رک جاتی ہیں وہ چیزیں جنہیں اس کے اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے، اور وہاں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے۔ (اس کے بارے میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے کے پروانے تھے اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں: پانچ نمازیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور آپ کی امت کے ان تمام لوگوں کے بڑے بڑے گناہ معاف کر دیے گئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔“