مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ ، طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ ، وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ ، قَالَ : فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الأَنْبِيَاءُ ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ ، فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ ، وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي ، وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قَالَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا سورة مريم آية 57 ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ، ثُمَّ عَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا ، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ ، وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ ، وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ ، قَالَ : فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى ، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ ، فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي ، فَقُلْتُ : يَا رَبِّ ، خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي ، فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقُلْتُ : حَطَّ عَنِّي خَمْسًا ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، قَالَ : فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، حَتَّى قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ ، فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ، قَالَ : فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ " .
شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا لمبا چوپایہ ہے، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اپنا سم وہاں رکھتا ہے جہاں اس کی نظر کی آخری حد ہے۔“ فرمایا: ”میں اس پر سوار ہوا حتی کہ بیت المقدس آیا۔“ فرمایا: ”میں نے اس کو اسی حلقے (کنڈے) سے باندھ لیا جس کے ساتھ انبیاء علیہم السلام اپنی سواریاں باندھتے تھے۔“ فرمایا: ”پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر (وہاں سے) نکلا تو جبریل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا لے آئے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ تو جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے، پھر وہ ہمیں لے کر آسمان کی طرف بلند ہوئے۔“ جبریل نے (دروازہ) کھولنے کو کہا تو پوچھا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”اور کیا انہیں بلوایا گیا تھا؟“ کہا: ”بلوایا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے (دروازہ) کھول دیا گیا تو میں اچانک آدم علیہ السلام کے سامنے تھا، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی، پھر وہ ہمیں اوپر دوسرے آسمان کی طرف لے گئے، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا انہیں بلوایا گیا تھا؟“ کہا: ”بلوایا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، اب میں دو خالہ زاد بھائیوں، عیسیٰ ابن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے سامنے تھا، دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی، پھر جبریل ہمیں اوپر تیسرے آسمان تک لے گئے، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کے پاس پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”(ہاں) بھیجا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا، وہ ایسے تھے کہ (انسانوں کا) آدھا حسن انہیں عطا کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر ہمیں اوپر چوتھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تو کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”ان کے پاس پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں، بھیجا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، تب میرے سامنے ادریس علیہ السلام تھے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» ’’ہم نے اسے (ادریس علیہ السلام کو) بلند مقام تک رفعت عطا کی۔“ پھر ہمیں اوپر پانچویں آسمان پر لے جایا گیا تو جبریل نے دروازہ کھلوایا، کہا گیا: ”آپ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پوچھا گیا: ”ان کے لیے پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں بھیجا گیا تھا۔“ چنانچہ ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تب میری ملاقات ہارون علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی، پھر ہمیں چھٹے آسمان پر لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا انہیں پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”ہاں، بھیجا گیا تھا۔“ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ تب میری ملاقات موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی، پھر ہمیں اوپر ساتویں آسمان پر لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھلوایا۔ کہا گیا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا: ”جبریل ہوں۔“ کہا گیا: ”آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ کہا گیا: ”کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تھا؟“ کہا: ”(ہاں) بھیجا گیا تھا۔“ اس پر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا تو میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے تھا۔ انہوں نے بیت معمور سے ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ اس (بیت معمور) میں ہر روز ستر ہزار فرشتے (عبادت کے لیے) داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی دوبارہ اس میں واپس (آکر داخل) نہیں ہو سکتے، پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ (آخری سرحد پر واقع بیری کے درخت) کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح ہیں، جب اللہ کے حکم سے جس چیز نے اسے ڈھانپنا تھا ڈھانپ لیا، تو وہ بدل گئی، اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی مخلوق نہیں جو اس کے حسن کا وصف بیان کر سکے، پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی جو کی، اور مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں، میں اتر کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: ”آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”پچاس نمازیں۔“ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس سے تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت (کے لوگوں) کے پاس اس کی طاقت نہ ہو گی، میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں اور پرکھ چکا ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”تو میں واپس اپنے رب کے پاس گیا اور عرض کی: اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا اور کہا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔“ انہوں نے کہا: ”آپ کی امت کے پاس (اتنی نمازیں پڑھنے کی) طاقت نہ ہو گی۔ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے اور اس سے تخفیف کا سوال کیجیے۔“ آپ نے فرمایا: ”میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں اور (اجر میں) ہر نماز کے لیے دس ہیں، (اس طرح) یہ پچاس نمازیں ہیں اور جو کوئی ایک نیکی کا ارادہ کرے گا لیکن عمل نہ کرے گا، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر وہ (اس ارادے پر) عمل کرے گا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جو کوئی ایک برائی کا ارادہ کرے گا اور (وہ برائی) کرے گا نہیں تو کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اسے کر لے گا تو ایک برائی لکھی جائے گی۔“ آپ نے فرمایا: ”میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اس سے (مزید) تخفیف کی درخواست کریں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: میں اپنے رب کے پاس (بار بار) واپس کیا حتی کہ میں اس سے شرمندہ ہو گیا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (345)»
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ ، فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي ، ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أُنْزِلْتُ " .
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس (فرشتے) آئے اور مجھے زمزم کے پاس لے گئے، میرا سینہ چاک کیا گیا، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر مجھے (واپس اپنی جگہ) اتار دیا گیا۔“ (یہ معراج سے فوراً پہلے کا واقعہ ہے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (413)»
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ "
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب کہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر گرایا اور آپ کا سینہ چاک کر کے دل نکال لیا، پھر اس سے جما ہوا خون نکالا اور کہا: یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اس کو سونے کے تھال (طشت) میں رکھ کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو (دل کو) جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، اور بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی انا (رضاعی ماں) کے پاس آئے اور کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے (یہ سن کر لوگ آئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے ملے اور آپ کا رنگ (خوف یا گھبراہٹ کی بنا پر) بدل چکا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینہ پر دیکھا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (346) »
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُنَا ، عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ ، " أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَقَدَّمَ فِيهِ شَيْئًا وَأَخَّرَ ، وَزَادَ وَنَقَصَ .
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث سنائی (کہا): میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ہمیں اس رات کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے رات کے سفر پر لے جایا گیا کہ آپ کی طرف وحی کیے جانے سے پہلے آپ کے پاس تین نفر (فرشتے) آئے، اس وقت آپ مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ شریک نے ’’واقعہ اسراء“ ثابت بنانی کی حدیث کی طرح سنایا اور اس میں کچھ چیزوں کو آگے پیچھے کر دیا اور (کچھ میں) کمی بیشی کی۔ (امام مسلم نے یہ تفصیل بتا کر پوری روایت نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في ((المناقب)) باب: كيف كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم عينه ولا ينام قلبه برقم (3570) وفي التوحيد، باب: ما جاء في قوله عز وجل: ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (7517) انظر ((التحفة )) برقم (909)»
حدیث نمبر: 163
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَفَتَحَ ، قَالَ : فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، قَالَ : فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا : مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ ، آدَمَ ، وَإِدْرِيسَ ، وَعِيسَى ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ ، أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَّ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ِ إبْرَاهِيمُ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ ، كَانَا يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ عَرَجَ بِي ، حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلَامِ ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ : فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : فَرَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ ، وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَقُلْتُ : قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى ، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ، قَالَ : ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: مکہ میں میرے گھر کی چھت کھولی گئی، جبریل علیہ السلام اترے اور میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا طشت لا کر جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا اسے میرے سینے میں خالی کر دیا، پھر سینہ کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمان کی طرف لے کر چڑھا۔ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے پہلے آسمان کے دربان سے کہا: دروازہ کھولو! اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا: جبریل ہے۔ پوچھا: کیا تیرے ساتھ کوئی ہے؟ کہا: ہاں! میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ کہا: ہاں! دروازہ کھولو! اس نے دروازہ کھول دیا۔ جب ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، تو دیکھا ایک آدمی ہے اس کے دائیں بھی صورتیں ہیں اور بائیں طرف بھی صورتیں ہیں۔ جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے ہنستا ہے، اور جب بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے۔ اس نے کہا: نیک شعار نبی اور نیک شعار بیٹے کو خوش آمدید! میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: یہ آدم علیہ السلام ہیں، اور یہ دائیں اور بائیں طرف شکلیں اس کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں والے جنتی ہیں، اور بائیں طرف والی صورتیں دوزخی ہیں، تو جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے ہنستا ہے، اور جب اپنے بائیں جانب دیکھتا ہے تو رو دیتا ہے۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے، حتیٰ کہ ہم دوسرے آسمان تک پہنچ گئے، تو اس کے پہرے دار سے کہا: دروازہ کھولو! تو اس کے خازن نے پہلے آسمان والے کی طرح پوچھا، پھر دروازہ کھولا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آسمانوں پر آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام، سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں، ملے اور ان کی جگہوں کی تعین نہیں کی۔ ہاں اس نے یعنی (ابو ذر رضی اللہ عنہ) نے یہ بتایا: کہ آدم علیہ السلام پہلے آسمان پر ملے، اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر، اور بتایا جب جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو اس نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ پھر آگے گزرے، تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انہوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: یہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے کہا: مرحبا! اے صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ اس (جبریل علیہ السلام) نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحـه)) في الصلاة، باب: كيف فرضت الصلوات في الاسراء برقم (349) وفى احاديث الانبياء، باب: ذكر ادريس عليه السلام، وقول الله تعالى: ﴿ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ﴾ برقم (3342) وفى الحج، باب: ما جاء في زمزم برقم (1636) مختصراً - والنسائي في ((المجتبى)) في الصلاة، باب: فرض الصلاة وذكر اختلاف الناقلين فی اسناد حدیث انس بن مالك رضى الله عنه واختلاف الفاظهم فيه 221/1 وابن ماجه في کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ما جاء فى فرض الصلوات الخمس والمحافظة عليها 448/1 ، رقم (1399) انظر ((التحفة)) برقم ( 11901 و 1556)»
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لَعَلَّهُ ، قَالَ : عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا ، يَقُولُ : أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي ، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا ، قَالَ قَتَادَةُ : فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي : مَا يَعْنِي ؟ قَالَ : إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ ، فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي ، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ ، يُقَالُ لَهُ : الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَم ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَفَتَحَ لَنَا ، وَقَالَ : مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى وَيَحْيَى عَلَيْهَا السَّلَام ، وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ ، وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ ، وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى ، فَنُودِيَ مَا يُبْكِيكَ ، قَالَ : رَبِّ ، هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَان ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ ؟ قَالَ : أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ، ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالآخَرُ لَبَنٌ ، فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، فَقِيلَ : أَصَبْتَ ، أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً " ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ .
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں نے غالباً یہ کہا) کہ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو ان کی قوم کے فرد تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا: ’تین آدمیوں میں سے ایک، دو کے درمیان والا۔‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا، فلاں سے فلاں جگہ تک (قتادہ نے کہا: میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: اس سے کیا مراد لے رہے ہیں؟ اس نے کہا: پیٹ کے نیچے کے حصے تک) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی آخری حد تھی، مجھے اس پر سوار کیا گیا، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے (پہلے) آسمان تک پہنچے۔ جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا: تو پوچھا گیا: ’یہ (دروازہ کھلوانے والا) کون ہے؟‘ کہا: ’جبریل ہوں۔‘ کہا گیا: ’آپ کے ساتھ کون ہے؟‘ کہا: ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘ پوچھا گیا: ’کیا (آسمانوں پر لانے کے لیے) ان کی طرف سے کسی کو بھیجا گیا تھا؟‘ کہا: ’ہاں۔‘ تو اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا: ’مرحبا! آپ بہترین طریقے سے آئے!‘ فرمایا: ”پھر ہم آدم علیہ السلام کے سامنے پہنچ گئے۔“ آگے پورے قصے سمیت حدیث سنائی اور بتایا کہ دوسرے آسمان پر آپ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام سے، تیسرے پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام سے، پانچویں پر ہارون علیہ السلام سے ملے، کہا: ”پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان کو سلام کیا، انہوں نے کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا۔“ جب میں ان سے آگے چلا گیا تو وہ رونے لگے، انہیں آواز دی گئی: ”آپ کو کس بات نے رلا دیا؟“ کہا: ”اے میرے رب! یہ نوجوان ہیں جن کو تو نے میرے بعد بھیجا ہے، ان کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ گئے تو میں ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا۔“ اور انہوں نے حدیث میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ انہوں نے چار نہریں دیکھیں، ان کے منبع سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو پوشیدہ نہریں۔ ”میں نے کہا: اے جبریل! یہ نہریں کیا ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جو دو پوشیدہ ہیں وہ جنت کی نہریں ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔“ پھر بیت معمور میرے سامنے بلند کیا گیا، میں نے پوچھا: ”اے جبریل! یہ کیا ہے؟“ کہا: ”یہ بیت معمور ہے، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، جب اس سے نکل جاتے ہیں، تو اس (زمانے) کے آخر تک جو ان کے لیے ہے دوبارہ اس میں نہیں آ سکتے۔“ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا، دونوں میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا، اس پر کہا گیا: ”آپ نے ٹھیک (فیصلہ) کیا، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے (سب کو) صحیح (فیصلہ) تک پہنچائے، آپ کی امت (بھی) فطرت پر ہے۔“ پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں ..... پھر (سابقہ) حدیث کے آخر تک کا سارا واقعہ بیان کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((بدء الخلق)) باب: ذخر الملائكة برقم (3207) وفى امناقب الانصار، باب: المعراج برقم (3887) وفى احاديث الانبياء، باب: قول الله عز وجل: ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ‎،‏ إِذْ رَأَىٰ نَارًا ﴾ الى قوله ﴿ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ برقم (3393) وفي، باب: قوله تعالى ﴿ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا ﴾ الآيات برقم (3430) والترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة الم نشرح برقم (3346) وقال: هذا حديث حسن صحيح والنسائي في ((المجتبى)) 220/1 في الصلاة، باب: فرض الصلاة وذكر اختلاف الناقلين ...... الخ - انظر ((التحفة)) برقم (11202)»
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ ، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ ، مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ ، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا .
ہشام نے قتادہ سے حدیث سنائی، (انہوں نے کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..... پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا اور اس میں اضافہ کیا: ”تو میرے پاس حکمت اور ایمان سے بھرا سونے کا طشت لایا گیا اور (میری) گردن کے قریب سے پیٹ کے پتلے حصے تک چیرا گیا، پھر زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (415)»
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَقَالَ مُوسَى : آدَمُ طُوَالٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَقَالَ عِيسَى : جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ، وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ " .
شعبہ نے ابوقتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے، اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے۔“ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3239) وفي احادیث الانبياء، باب قول الله تعالى: ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴾ ، ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (3396) انظر ((التحفة)) برقم (5423)»
حدیث نمبر: 165
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام ، رَجُلٌ آدَمُ طُوَالٌ جَعْدٌ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ ، وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ ، وَأُرِيَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ ، وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ " ، قَالَ : كَانَ قَتَادَةُ يُفَسِّرُهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام .
شیبان بن عبدالرحمن نے قتادہ کے حوالے سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ ہمیں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسراء کی رات موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا، وہ گندمی رنگ، طویل قامت کے گٹھے ہوئے جسم کے انسان تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید اور سر کے بال سیدھے تھے۔“ (سفر معراج کے دوران میں) ان بہت سی نشانیوں میں سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں، آپ کو دوزخ کا داروغہ مالک اور دجال بھی دکھایا گیا۔ ”آپ ان (موسیٰ) سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں۔“ شیبان نے کہا: قتادہ اس آیت کی تفسیر بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے۔ (یہ ملاقات حقیقی تھی، معراج محض خواب نہ تھا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (417)»
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِوَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : ثَنِيَّةُ هَرْشَى ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام ، عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ ، وَهُوَ يُلَبِّي " ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ هُشَيْمٌ : يَعْنِي لِيفًا .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازرق وادی میں سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ وادی ازرق ہے۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو چوٹی سے اترتے دیکھ رہا ہوں، اور وہ بلند آواز سے اللہ کے حضور تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشیٰ کی چوٹی پر پہنچے تو پوچھا: ”یہ کون سی چوٹی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ ہرشیٰ کی چوٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، سرخ رنگ کی گھٹی ہوئی اونٹنی پر سوار ہیں، اونی جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔“ ابن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہشیم رحمہ اللہ نے کہا: «خُلْبَةٌ» سے مراد «لِيفٌ» ہے، یعنی کھجور کی کھال۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في المناسك، باب: الحج علی الرحل برقم (2891) انظر ((التحفة)) برقم (5424)»
حدیث نمبر: 166
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ ، فَقَالَ : أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا : وَادِي الأَزْرَقِ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ ، وَشَعَرِهِ ، شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ ، وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا ، حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ ، فَقَالَ : أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا : هَرْشَى أَوْ لِفْتٌ ، فَقَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ ، عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ ، نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ ، مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں (صحابہ) نے کہا: وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے رنگ اور بالوں کے بارے میں کچھ بتایا جو داؤد کو یاد نہیں۔ ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھی ہیں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر ہم چلے یہاں تک کہ ایک اور گھاٹی پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ہرشیٰ یا لفت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، اونی جبہ پہنا ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، وہ تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (419)»
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَمْ أَسْمَعْهُ ، قَالَ : ذَاكَ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، وَأَمَّا مُوسَى ، فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي " .
مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا، (اس پر کسی نے) کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے یہ کہا ہو لیکن آپ نے یہ فرمایا: ”جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ہے تو اپنے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ، گٹھے ہوئے جسم کے مرد ہیں، سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے، جیسے میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ جب وادی میں اترے ہیں تو تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الحج، باب: التلبية اذا انحدر في الوادئ برقم (1555) وفي احاديث الانبياء، باب: قول الله تعالي: ﴿ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ﴾ وقوله: ﴿ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ ﴾ برقم (3355) وفي اللباس، باب: الجعد برقم (5913) انظر ((التحفة)) برقم (6400)»
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ : دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام پھر پتلے بدن کے آدمی تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میں نظر آتی ہے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) میں نظر آئی، یعنی خود آپ۔ اور میں نے جبریل کو (انسانی شکل میں) دیکھا، میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت دحیہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔“ ابن رمح کی روایت میں ’’دحیہ بن خلیفہ“ ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في المناقب، باب: في صفة النبي صلی اللہ علیہ وسلم برقم (3649) وقال: حديث حسن صحيح غريب انظر ((التحفة)) برقم (2920)»
حدیث نمبر: 168
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد وتقاربا في اللفظ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِينَ أُسْرِيَ بِي ، لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، قَالَ : وَلَقِيتُ عِيسَى ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا ، قَالَ : وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، قَالَ : فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقَالَ : هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ، أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا (آپ نے ان کا حلیہ بیان کیا: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا:) وہ ایک مضطرب (کچھ لمبے اور پھر پتلے) مرد ہیں، لٹکتے بالوں والے، جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں (اور آپ نے فرمایا:) میری ملاقات عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان فرمایا:) وہ میانہ قامت، سرخ رنگ کے تھے گویا ابھی دیماس (یعنی حمام) سے نکلے ہیں۔ اور فرمایا: میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ان کی اولاد میں سے میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی، مجھ سے کہا گیا: ان میں سے جو چاہیں لے لیں۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا۔“ (جبریل نے کہا:) ”آپ کو فطرت کی راہ پر چلایا گیا ہے (یا آپ نے فطرت کو پا لیا ہے)، اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت راستے سے ہٹ جاتی۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى احاديث الانبياء، باب: قول الله تعالى: ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴾ ، ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (3394) وفي باب قول الله: ﴿ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا ﴾ برقم (3437) وفي الاشربة، باب: قول الله تعالى: ﴿ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ مختصراً برقم (5576) والترمذى في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة بنى اسرائيل برقم (3130) وقال: حديث حسن صحيح انظر ((التحفة)) برقم (13270)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔