مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی (یعنی اللہ کا پیام) اترنا کیونکر شروع ہوا۔
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ، قَالَتْ : " كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ { 4 } عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ { 5 } سورة العلق آية 1-5 فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ : أَيْ خَدِيجَةُ : مَا لِي ، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ " ، قَالَ : لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : كَلَّا أَبْشِرْ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ ابْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : أَيْ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَاذَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ، قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ ، قَالَ وَرَقَةُ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا .
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث سنائی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز سب سے پہلے نیند میں سچے خواب آنے سے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے روشن ہونے کی طرح سامنے آ جاتی، پھر خلوت نشینی آپ کو محبوب ہو گئی، آپ غار حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور گھر واپس جا کر (دوبارہ) اسی غرض کے لیے زاد راہ لانے سے پہلے (مقررہ) تعداد میں راتیں تحنث میں مصروف رہتے، تحنث عبادت گزاری کو کہتے ہیں، (اس کے بعد) آپ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ کر، اتنی ہی راتوں کے لیے زاد (سامان خور و نوش) لے جاتے، (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اچانک آپ کے پاس حق (کا پیغام) آ گیا، اس وقت آپ غار حراء ہی میں تھے، چنانچہ آپ کے پاس فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے! آپ نے جواب دیا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: تو اس (فرشتے) نے مجھے پکڑ کر زور سے بھینچا یہاں تک کہ (اس کا دباؤ) میری برداشت کی آخری حد کو پہنچ گیا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے مجھے پکڑا اور دوبارہ بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھیے! میں نے کہا: میں پڑھ سکنے والا نہیں ہوں، پھر اس نے تیسری دفعہ مجھے پکڑ کر پوری قوت سے بھینچا یہاں تک کہ میری برداشت کی آخری حد آ گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» ’’اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو گوشت کے جونک جیسے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی اور انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کے ساتھ واپس لوٹے، (اس وقت) آپ کے کندھوں اور گردن کے درمیان کے گوشت کے حصے لرز رہے تھے یہاں تک کہ آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: ”مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔“ انہوں (گھر والوں) نے کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف زائل ہو گیا تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”خدیجہ! یہ مجھے کیا ہوا ہے؟“ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں! (بلکہ) آپ کو خوشخبری ہو اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا، اللہ کی قسم! آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اسے کما کر دیتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے لیے پیش آنے والی مشکلات میں اعانت کرتے ہیں، پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ کے پاس پہنچیں، وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد، ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے، وہ ایسے آدمی تھے جو جاہلیت کے دور میں عیسائی ہو گئے تھے، عربی خط میں لکھتے تھے، اور جس قدر اللہ کو منظور تھا، انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے، بہت بوڑھے تھے اور بینائی جاتی رہی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: چچا! اپنے بھتیجے کی بات سنیے، ورقہ بن نوفل نے پوچھا: برادر زادے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا، اس کا حال بتایا تو ورقہ نے آپ سے کہا: یہ وہی ناموس (رازوں کا محافظ) ہے جسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا تھا، کاش! اس وقت میں جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت زندہ (موجود) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کیا یہی لوگ مجھے نکالنے والے ہوں گے؟“ ورقہ نے کہا: ہاں، کبھی کوئی آدمی آپ جیسا پیغام لے کر نہیں آیا مگر اس سے دشمنی کی گئی اور اگر آپ کا (وہ) دن میری زندگی میں آ گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 160
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴾ برقم (4953) انظر ((التحفة)) برقم (16706)»
حدیث نمبر: 160
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَوَاللَّهِ لَا يُحْزِنُكَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ : قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
ہمیں معمر نے خبر دی کہ انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتدا...... آگے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ معمر نے «لَا يَحْزُنْكَ اللهُ أَبَدًا» ’’آپ کو اللہ کبھی غمگین نہ کرے گا“ کہا۔ انہوں نے (یہ بھی) کہا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ الفاظ کہے: ”چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 160
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التعبير اول ما بدی به رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم من الوحى الرويا الصالحة مطولا برقم (6982) وفي التفسير، باب: قوله ﴿ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴾ برقم (4956) انظر ((التحفة)) برقم (16637) »
حدیث نمبر: 160
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ ، أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ ، وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
عقیل بن خالد نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، آپ کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا..... پھر (عقیل نے) یونس اور معمر کی طرح حدیث بیان کی۔ اور ان دونوں کی روایت کا ابتدائی حصہ، یعنی ان کا یہ قول کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز سچے خوابوں کی صورت میں ہوا، بیان نہیں کیا۔ نیز عقیل بن خالد نے یونس کے ان الفاظ «وَاللہِ! لَا يُخْزِيكَ اللہُ أَبَدًا» ’’اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہ کرے گا“ میں متابعت کرنے کے ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے: ”چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 160
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى بدء الوحى، باب: كيف كان بدء الوحي الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (3) مطولا بتمامه، وفي التفسير، باب: قوله ﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ مختصرا برقم (4955) انظر ((التحفة)) برقم (16540)»
حدیث نمبر: 161
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ ، جَالِسًا عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا ، فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 } وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ { 3 } وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ { 4 } وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ { 5 } سورة المدثر آية 1-5 ، وَهِيَ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ تَتَابَعَ الْوَحْيُ " .
یونس نے (اپنی سند کے ساتھ) ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، یہ حدیث سنایا کرتے تھے، کہا: وقفہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران میں جب میں چل رہا تھا، میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، اس پر میں نے اپنا سر اٹھایا تو اچانک (دیکھا) وہی فرشتہ تھا جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا۔“ آپ نے فرمایا: ”اس کے خوف کی وجہ سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور میں گھر واپس آ گیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ تو انہوں (گھر والوں) نے مجھے کمبل اوڑھا دیا۔“ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیات اتاریں: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» ’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے اٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور گندگی سے دور رہو۔“ اور اس («الرجز» یعنی گندگی) سے مراد بت ہیں۔ فرمایا: پھر وحی مسلسل نازل ہونے لگی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الوحي، باب: كيف كان بدء الوحي الی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم برقم (3) وفي التفسير برقم (4922 و 4923 و 4925) وفي، باب: سورة ﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴾ برقم (4953) وفى بدء الخلق، باب: اذا قال احدکم آمین والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3238) وفى الادب، باب: رفع البصر الى السماء، وقوله تعالى ﴿ أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴾ برقم (6214) والترمذى في ((جامعه)) في التفسير، باب: ومن سورة المدثر وقال: هذا حدیث حسن صحيح برقم (3325) انظر ((التحفة)) برقم (3152)»
حدیث نمبر: 161
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً ، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : وقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَالرُّجْزُ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ .
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”پھر وحی ایک وقفے کے لیے مجھ سے منقطع ہو گئی، اسی دوران میں جب میں چل رہا تھا.....“ پھر (عقیل نے) یونس کی طرح روایت بیان کی، البتہ انہوں نے (مزید یہ) کہا: ”تو خوف سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی حتی کہ میں زمین پر گر پڑا“ (ابن شہاب نے کہا: ابوسلمہ نے بتایا: الرجز سے بت مراد ہیں) کہا: پھر نزول وحی (کی رفتار) میں گرمی آ گئی اور مسلسل نازل ہونے لگی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (404)»
حدیث نمبر: 161
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَقَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 ، قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الأَوْثَانُ ، وَقَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ ، كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ .
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی طرح حدیث بیان کی (اس میں یہ) کہا: تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» سے لے کر «وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» تک (کی آیتیں) نازل فرمائیں (نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے) اور اس («الرجز») سے بت مراد ہیں، نیز معمر نے عقیل کی طرح ’’مجھ پر خوف طاری ہو گیا“ کہا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (404)»
حدیث نمبر: 161
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى ، يَقُولُ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، قَالَ جَابِرٌ : أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَهْرًا ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي ، نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي ، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي ، وَخَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، فَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ { 1 } قُمْ فَأَنْذِرْ { 2 } وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ { 3 } وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ { 4 } سورة المدثر آية 1-4 .
یحییٰ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے سوال کیا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا؟ اس نے جواب دیا: «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» تو میں نے کہا: کیا «اِقْرَاْ» نہیں؟ تو ابو سلمہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ اتارا گیا؟ تو جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا «يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» تو میں نے کہا: «اِقْرَاْ» نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمھیں وہی بتاتا ہوں جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک ماہ حرا میں گزارا، جب میں نے اپنا اعتکاف مکمل کر لیا، تو میں اتر کر وادی کے درمیان پہنچ گیا، تو مجھے آواز دی گئی، اس پر میں نے اپنے آگے اور اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں نظر دوڑائی تو مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ پھر مجھے آواز دی گئی تو میں نے دیکھا، مجھے کوئی نظر نہ آیا، پھر مجھے (تیسری بار) آواز دی گئی، اس پر میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو وہ، یعنی جبرائیل علیہ السلام فضا میں عرش (تخت کرسی) پر بیٹھا ہوا تھا، تو مجھ پر سخت لرزہ طاری ہو گیا۔ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آگیا اور کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو! انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے آیات اتاریں: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۝ قُمْ فَأَنْذِرْ ۝ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۝ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ» (سورۃ المدثر: 1-4)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (404)»
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ .
علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”تو وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (404)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔