مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّّلام حَكَمًا مُقْسِطًا ، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ ، وَيَفِيضُ الْمَالُ ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " .
لیث نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تم میں اتریں گے، انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے، پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور مال کی فراوانی ہو جائے گی حتی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) فى البيوع، قتل الخنزير برقم (2222) والترمذي في ((جامعه)) في الفتن، باب: ما جاء في نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام - وقال: هذا حديث حسن صحیح برقم (2233) انظر ((التحفة)) برقم (13228)»
حدیث نمبر: 155
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ : إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ : حَكَمًا عَادِلًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِمَامًا مُقْسِطًا ، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ : حَكَمًا مُقْسِطًا ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ : وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سورة النساء آية 159 الآيَةَ .
سفیان رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ اور ابو صالح رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ ابن عینیہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» ”منصف امام، عادل حکمران۔“ اور یونس رحمہ اللہ کی روایت میں صرف «حَكَمًا عَادِلًا» ہے، «إِمَامًا مُقْسِطًا» نہیں۔ اور جیسا کہ لیث رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہو گا۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آخر میں فرماتے: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو! ”اہلِ کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔“ ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ (النساء: 159) ”اور قیامت کے دن وہ انھی پر گواہ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم عليهما السلام برقم (3448) انظر ((التحفة)) برقم (13178)»
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا ، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ ، وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا ، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ ، وَالتَّبَاغُضُ ، وَالتَّحَاسُدُ ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ ، فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ " .
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یقیناً عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم (فیصلہ کرنے والے) بن کر اتریں گے، ہر صورت میں صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے، جو ان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی (دوسرے وسائل میسر آنے کی وجہ سے ان کی محنت کی ضرورت نہ ہو گی) لوگوں کے دلوں سے عداوت، باہمی بغض و حسد ختم ہو جائے گا، لوگ مال (لے جانے) کے لیے بلائے جائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14208)»
حدیث نمبر: 155
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ؟ " .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تم کیسے (عمدہ حال میں) ہو گے جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا؟“ (اترنے کے بعد پہلی نماز مقتدی کی حیثیت سے پڑھ کر امت محمدیہ میں شامل ہو جائیں گے۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم عليهما السلام برقم (3448) انظر ((التحفة)) برقم (14636)»
حدیث نمبر: 155
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ ، فِيكُمْ ، وَأَمَّكُمْ ؟ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری کیا حالت ہو گی جب تم میں مریم کے بیٹے (عیسیٰ علیہ السلام) اتریں گے، اور تمھارا مقتدا اور رہنما ہوں گے؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (390)»
حدیث نمبر: 155
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ ، فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ ؟ " ، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ : إِنَّ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ، وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ : تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ ؟ قُلْتُ : تُخْبِرُنِي ، قَالَ : فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری کیا شان ہوگی، جب تم میں ابنِ مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمھارے فرد بن کر امامت کریں گے؟ ابن ابی ذئب رحمہ اللہ کے شاگرد نے ان سے پوچھا: اوزاعی رحمہ اللہ نے ہمیں زہری رحمہ اللہ کی نافع رحمہ اللہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی، تو یہ الفاظ کہے «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» ”تمھارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔“ (اور آپ کہہ رہے ہیں: ”ابنِ مریم علیہ السلام امامت کروائیں گے“) ابنِ ابی ذئب رحمہ اللہ نے جواب دیا: جانتے ہو «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» کا مقصد کیا ہے؟ شاگرد نے کہا: مجھے آپ بتا دیں! تو استاد نے جواب دیا: ”کہ تمھارے رب کی کتاب اور تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تمھاری قیادت و رہنمائی فرمائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 155
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (390)»
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلام ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ لَنَا ، فَيَقُولُ : لَا ، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ ، تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر (قائم رہتے ہوئے) لڑتا رہے گا، وہ قیامت کے دن تک (جس بھی معرکے میں ہوں گے) غالب رہیں گے، کہا: پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے تو اس طائفہ (گروہ) کا امیر کہے گا: آئیں ہمیں نماز پڑھائیں، اس پر عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: نہیں، اللہ کی طرف سے اس امت کو بخشی گئی عزت و شرف کی بنا پر تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 156
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه مسلم في ((صحيحه)) في الجهاد، باب: قوله صلی اللہ علیہ وسلم : ((لا تزال طائفة من امتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم)) برقم (4931) انظر ((التحفة)) برقم (2840)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔