مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ ، إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ ، آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ہر ایک نبی کو ایسی نشانیاں (معجزے) دی گئیں جن (کو دیکھ کر) لوگ ایمان لائے، اور وحی مجھی کو گئی، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی، (وہ معجزہ بھی ہے، اور نور بھی «وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا») اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 152
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في فضائل القرآن، باب: كيف نزل الوحي برقم (4981) وفي الاعتصام بالسنة، باب: قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ((بعثت بجوامع الكلم )) برقم (7274) انظر (( التحفة)) برقم (14313)»
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہو گا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 153
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15474)»
حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ ، يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ ، وَاتَّبَعَهُ ، وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى ، وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا ، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، فَلَهُ أَجْرَانِ " ، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ : خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ .
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی، انہوں نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے شعبی سے سوال کیا اور کہا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے، پھر اس سے شادی کر لے (یہ) کہتے ہیں کہ وہ اپنی قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے۔ شعبی نے کہا: مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا: اہل کتاب کا آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے دور) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا: یہ حدیث بلا مشقت لے لو۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في العلم، باب: تعليم الرجل امته واهله برقم (97) وفي العتق، باب: العبد اذا احسن عبادة ربه ونصح سيده برقم (2547) مختصراً - وفي الجهاد، باب: فضل من اسلم من اهل الكتابين برقم (3011) وفى احادیث الانبياء، باب: قول الله ﴿ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ﴾ برقم (3446) وفى النكاح، باب: اتخاذ السراري برقم (5083) والترمذى فى ((جامعه)) فی النکاح، باب: ما جاء في الفضل في ذلك وقال: حديث أبي موسی حديث حسن صحيح برقم (1116) والنسائي في (المجتبي)) 7/ في النكاح، باب: الرجل یعتق جاريته ثم يتزوجها ۔ وابن ماجه في ((سننه)) في النكاح، باب: الرجل يعتق امته ثم يتزوجها برقم (1956) انظر ((التحفة)) برقم (9107)»
حدیث نمبر: 154
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
عبدہ بن سلیمان، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (385)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔