مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: دلائل کے اظہار سے دل کو زیادہ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 151
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 ، قَالَ : وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ ، لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ .
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ» ’’اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أَوَلَمْ تُؤْمِن» ’’کیا تمہیں یقین نہیں؟‘‘ کہا: «بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» ’’کیوں نہیں! لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘“ آپ نے فرمایا: ”اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، (وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو (ہو سکتا ہے) بلانے والے کی بات مان لیتا۔“ (عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا۔)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ﴾ برقم (4537) وفي باب: ﴿ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ ..... ﴾ برقم (4694) والمؤلف (مسلم) في الفضائل، باب: من فضائل ابراهيم الخليل عليه السلام برقم (6094) وابن ماجه في ((سننه)) في الفتن، باب: الصبر على البلاء برقم (4026) انظر ((التحفة )) برقم (13325 و 15313) »
حدیث نمبر: 151
وحَدَّثَنِي بِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ : وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى جَازَهَا .
مالک نے زہری سے روایت کی کہ سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جو زہری سے یونس کی (روایت کردہ) حدیث کے مانند ہے اور مالک کی حدیث میں (یوں) ہے: ”تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔“ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی حتی کہ اس سے آگے نکل گئے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: قول الله تعالى: ﴿ لَّقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِّلسَّائِلِينَ ﴾ برقم (3387) وفى التعبير، باب: رویا اهل السجون والفساد والشرك، لقوله تعالى: ﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ ... الآية ﴾ برقم (6992) ومسلم في ((صحيحه)) في الفضائل، باب: فضائل ابراهيم برقم (6095) انظر ((التحفة)) برقم (12931)»
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ كَرِوَايَةِ مَالِكٍ بِإِسْنَادِهِ ، وَقَالَ : ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ حَتَّى أَنْجَزَهَا .
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت دوسری سند سے بھی بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (381)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔