مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
حدیث نمبر: 132
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ : إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، قَالَ : وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ " .
سہیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”یہی صریح ایمان ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 132
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12600)»
حدیث نمبر: 132
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 132
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم ((التحفة)) برقم (12446)»
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ ، قَالَ : " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ " .
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسہ کے بارے میں سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خالص ایمان ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 133
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - ((التحفة)) برقم (9446)»
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ ، حَتَّى يُقَالَ : هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ " .
سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في (صحيحه)) في بدء الخلق، باب: صفة ابليس و جنوده برقم (3102) بنحوه وابوداؤد في ((سننه)) في السنة، باب: في الجهمية برقم (4721) انظر ((التحفة)) برقم (14160)»
حدیث نمبر: 134
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ، مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ ؟ ، فَيَقُولُ : اللَّهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ وَرُسُلِهِ .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ جواب دیتا ہے: اللہ نے۔“ پھر اوپر والی روایت بیان کی اور «آمَنْتُ بِاللهِ» کے بعد «وَرُسُلِه» ”اس کے رسول پر“ کا اضافہ کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (341)»
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا ، عَنْ يَعْقُوبَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ ، فَيَقُولَ : مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا ؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ : مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور پوچھتا ہے: کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ اس سے سوال کرتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ (پس سوالات کا سلسلہ) جب یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور رک جائے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (341)»
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا ؟ " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ .
عقیل بن خالد نے کہا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ سو جب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے۔“ (یہ حدیث) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 134
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (341)»
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " ، قَالَ : وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ ، أَوَ قَالَ : سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي .
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 135
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14442)»
حدیث نمبر: 135
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ .
امام مسلم رحمہ اللہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس سند میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن حدیث کے آخر میں یہ کہا: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 135
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14410)»
حدیث نمبر: 135
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا : " هَذَا اللَّهُ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا اللَّهُ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : قُومُوا قُومُوا ، صَدَقَ خَلِيلِي .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ تجھ سے سوال کرتے رہیں گے اے ابو ہریرہ! یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں تھا کہ اچانک میرے پاس کچھ بدوی آئے اور کہنے لگے: اے ابو ہریرہ! یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو انھوں نے مٹھی میں کنکر لے کر پھینکے، پھر کہا: اٹھو اٹھو میرے خلیل نے سچ فرمایا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے)۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 135
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15403)»
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى يَقُولُوا : اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ، فَمَنْ خَلَقَهُ ؟ " .
یزید بن اصم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے: اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کو کس نے پیدا کیا؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 135
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14825)»
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ : مَا كَذَا ، مَا كَذَا ، حَتَّى يَقُولُوا : هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ " .
محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے کہا: ”اللہ عز وجل نے فرمایا: آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے: یہ کیسے ہے؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، اس نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 136
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1580)»
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاق لَمْ يَذْكُرْ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ : إِنَّ أُمَّتَك .
مختار رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حدیث سنائی اور «قَالَ اللهُ: إِنَّ أُمَّتَكَ» کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 136
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (1580)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔