حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ " وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ .
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ان کاموں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کی خاطر کرتا تھا؟ مجھے ان کا کچھ اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیک کام پہلے کر چکے ہو تم نے ان سمیت اسلام قبول کیا ہے۔“ تخث کا مطلب ہے عبادت گزاری ہے۔
حدیث نمبر: 123
وحَدَّثَنَا حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ عَبد ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ ، أَوْ عَتَاقَةٍ ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ ، أَفِيهَا أَجْرٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْر " .
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! بتائیے وہ امور (نیکیاں) جو میں جاہلیت کے دور میں گناہ سے بچنے کے لیے کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کی آزادی، صلۂ رحمی تو کیا یہ اجر کا باعث ہوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلی نیکیوں پر ایمان لایا ہے۔“ (یعنی سابقہ نیکیاں قائم ہیں)
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَشْيَاءَ كُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ لَكَ مِنَ الْخَيْرِ " ، قُلْتُ : فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الإِسْلَامِ مِثْلَهُ .
ابن شہاب زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، نیز (ایک دوسری سند کے ساتھ) ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: وہ (بھلائی کی) چیزیں (کام) جو میں جاہلیت کے دور میں کیا کرتا تھا؟ (ہشام نے کہا: ان کی مراد تھی کہ میں نیکی کے لیے کرتا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے جو (نیک) کام جاہلیت میں کیے تھے، ان میں سے کوئی عمل نہیں چھوڑوں گا مگر اس جیسے کام اسلام میں بھی کروں گا۔
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ، ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ ، وَحَمَلَ عَلَى مِائَةِ بَعِيرٍ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دورِ جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے صدقہ کیے پھر اسلام لانے کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹ سواری کے لیے خیرات کیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔