مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: اسلام، ہجرت، اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلهم ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ ، فَبَكَى طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْجِدَارِ ، فَجَعَلَ ابْنُهُ ، يَقُولُ : يَا أَبَتَاهُ ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا ، أَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا ؟ قَالَ : فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ ، شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي ، وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ قَدِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ ، فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الإِسْلَامَ فِي قَلْبِي ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلأُبَايِعْكَ ، فَبَسَطَ يَمِينَهُ ، قَالَ : فَقَبَضْتُ يَدِي ، قَالَ : مَا لَكَ يَا عَمْرُو ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ، قَالَ : تَشْتَرِطُ بِمَاذَا ؟ قُلْتُ : أَنْ يُغْفَرَ لِي ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ " أَنَّ الإِسْلَامَ يَهْدِمُ ، مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلِهَا ، وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ " ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ ، وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ ، لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ ، وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ ، فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ ، وَلَا نَارٌ ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي ، فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ ، وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ ، وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي .
ابن شمامہ مہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی موت کے وقت موجود تھے، تو وہ دیر تک روتے رہے اور چہرہ دیوار کی طرف کر لیا، تو ان کا بیٹا کہنے لگا: اے ابا جان! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فلاں چیز کی بشارت نہیں دی؟ کیا فلاں بشارت نہیں دی تھی؟ تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ہم سب سے بہتر چیز جس کا اہتمام و تیاری کرتے ہیں، اللہ کی الوہیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی ہے اور مجھ پر تین قسم کے حالات گزرے ہیں (پہلا یہ) میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ مجھ سے زیادہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض نہ تھا اور نہ اس سے زیادہ کوئی چیز مجھے پسند تھی کہ میں آپ پر قابو پا کر آپ کو قتل کر دوں، اگر میں (خدانخواستہ) اس حالت میں مر جاتا تو میں یقیناً دوزخی ہوتا۔ (دوسرا حال) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا کردی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے، تاکہ میں بیعت کرسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلا دیا، تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا شرط طے کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: ”کیا شرط چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا مجھے معافی مل جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم نہیں اسلام پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟ اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتی ہے؟ اور حج پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے؟“ اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی نہ تھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی جلیل القدر تھا۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی بنا پر آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں سکتا تھا، اور اگر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بیان نہیں کر سکوں گا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھیں بھر کر دیکھا ہی نہیں، اور اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو مجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا۔ (تیسرا حال یہ ہے) پھر کچھ امور ہمارے سپرد ہوئے، میں نہیں جانتا ان کی ادائیگی میں میری حالت کیا رہی (ان کی بناء پر میرا انجام کیا ہوگا)، تو جب میں مر جاؤں، کوئی نوحہ کرنے والی میرے ساتھ نہ ہو، اور نہ ہی آگ ہو۔ اور جب تم مجھے دفن کر چکو تو مجھ پر مٹی ڈالنا، پھر میری قبر کے گرد اتنا ٹھہرنا جس میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ میں تمھاری وجہ سے انس حاصل کر سکوں اور دیکھ لوں اپنے رب کے فرستادوں کو میں کیا جواب دیتا ہوں؟
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 121
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (10737)»
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا ، فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا ، فَأَكْثَرُوا ، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً ، فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ سورة الزمر آية 53 " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک لوگوں نے (جاہلیت کے دور میں) بہت قتل کیے، بہت زنا کیے، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں، اور جس راہ کی دعوت دیتے ہیں، بہت اچھا ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بتا دیں کہ جو عمل ہم کر چکے ہیں ان کا کفارہ ہے (تو ہم ایمان لے آئیں) تو یہ آیت نازل ہوئی: ”جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس جان کو اللہ نے محفوظ قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے طور پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرے گا اس کو سزا سے سابقہ پڑے گا۔“ (فرقان: 68) اور نازل ہوا: ”اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔“ (زمر: 53)
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 122
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: قوله تعالى: ﴿ قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾ برقم (4532) وابوداؤد في ((سننه)) فى الفتن والملاحم، باب: في تعظيم قتل المؤمن برقم (4274) مختصراً، من غير ان يذكر القصة ۔ وأخرجه النسائي في ((المجتبى)) 226/7 في التحريم، باب: تعظيم الدم ۔ انظر ((التحفة)) برقم (5652)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔