حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا ، وَمَنْ أَسَاءَ ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ " .
منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا جاہلیت کے اعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلَامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ " .
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے۔