حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ ، وَقَالَ : " أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، مَا شَأْنُ ثَابِتٍ ، اشْتَكَى ؟ قَالَ سَعْدٌ : إِنَّهُ لَجَارِي ، وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَكْوَى ، قَالَ : فَأَتَاهُ سَعْدٌ ، فَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ثَابِتٌ : أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنَا مِنَ أَهْلِ النَّارِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّة " .
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی مت کرو۔“ آیت کے آخر تک۔ تو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے: میں تو جہنمی ہوں۔ انہوں نے (خود کو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی خدمت میں حاضر ہونے) سے بھی روک لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”ابوعمرو! ثابت کو کیا ہوا؟ کیا وہ بیمار ہیں؟“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے پڑوسی ہیں اور مجھے ان کی کسی بیماری کا پتہ نہیں چلا۔ حضرت انس نے کہا: اس کے بعد سعد، ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی تو ثابت کہنے لگے: یہ آیت اتر چکی ہے اور تم جانتے ہو کہ تم سب میں میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے زیادہ بلند ہے، اس بنا پر میں جہنمی ہوں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اس (جواب) کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 119
وحَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الأَنْصَار ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْر سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصاریوں کے خطیب تھے۔ جب یہ آیت اتری۔ آگے حماد رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 119
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں: کہ جب آیت «لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» اتری۔ حدیث میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 119
وحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
معتمر کے والد سلیمان بن طرخان نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ جب یہ آیت اتری (آگے گزشتہ حدیث بیان کی) لیکن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا: ہم انہیں (اس طرح) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے۔