مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح مسلمابوابباب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " ، قَالَ : فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلَاثَ مِرَارًا ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا ، وَخَسِرُوا ، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُسْبِلُ ، وَالْمَنَّانُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ہیں قیامت کے دن اللہ ان سے (پیار و محبت کی) گفتگو نہیں کرے گا اور نہ ان کو (نظرِ رحمت سے) دیکھے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ آلِ عمران کی یہ آیت (77) پڑھی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ناکام ہو گئے اور نقصان سے دوچار ہوئے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: ”کپڑا نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کو رواج دینے والا (اس کی نکاسی کرنے والا)۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في اللباس، باب: ما جاء في اسبال الازار برقم (4087) والترمذي في ((جامعه)) في البيوع، باب: ما جاء فيمن حلف على سلعة كاذبة - وقال: حديث ابی ذر حدیث حسن صحيح برقم (1211) وأخرجه النسائي في ((المجتبى)) 81/5 في الزكاة، باب: المنان بما اعطى وفي 240/7-247 في البيوع، باب: المنفق السلعة بالحلف الكاذب ۔ وفي 208/8 في الزينة، باب: اسبال الزار برقم (5348) - وابن ماجه في ((سننه)) في التجارات، باب: ما جاء في كراهية الايمان في الشراء والبيع برقم (2208) انظر ((التحفة)) برقم (11909)»
حدیث نمبر: 106
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ " .
سفیان نے کہا: ہمیں سلیمان اعمش نے سلیمان بن مسہر سے حدیث سنائی، انہوں نے خرشہ بن حر سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تین (قسم کے لوگ) ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا: منان، یعنی جو احسان جتلانے کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے۔ وہ جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنے سامان کی مانگ بڑھاتا ہے اور جو اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (289)»
حدیث نمبر: 106
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انھیں پاک کرے گا، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 106
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، تقدم تخريجه برقم (289)»
حدیث نمبر: 107
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : " وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، شَيْخٌ زَانٍ ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔“ (ابو معاویہ نے کہا: ”نہ ان کی طرف دیکھے گا۔“) ”اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا فقیر و محتاج۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 107
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (13406)»
حدیث نمبر: 108
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا ، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا ، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا ، وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے آدمی ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا۔ نہ ان لوگوں کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک صاف کرے گا، ان کے لیے درد انگیز دکھ ہے۔ ایک آدمی جنگل میں اس کے پاس ضرورت سے زائد پانی ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، دوسرا وہ جو کسی آدمی کو عصر کے بعد سامان بیچتا ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے میں نے یہ سامان اتنی رقم میں خریدا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، خریدار نے اس کی بات مان لی۔ تیسرا وہ آدمی جو حکمران کی بیعت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اس سے مفاد (دنیا) حاصل کرے، اگر وہ اسے مفاد پہنچاتا ہے تو وہ وفادار رہتا ہے اگر دنیا کا مفاد نہیں دیتا تو وہ بھی بیعت کا حق ادا نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في التجارات باب: ما جاء في كراهية الايمان في الشراء والبيع برقم (2207) وفي الجهاد، باب: الوفاء بالبيعة برقم (2870) انظر ((التحفة)) برقم (12522)»
حدیث نمبر: 108
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ .
جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، البتہ جریر کی روایت میں (”سودا کیا“ کے بجائے) یہ الفاظ ہیں: ”ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا۔“
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12413)»
حدیث نمبر: 108
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرَاهُ مَرْفُوعًا ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ ، وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الأَعْمَشِ .
عمرو نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں (ابوصالح) نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی) آپ نے فرمایا: ”تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک آدمی جس نے عصر کے بعد مسلمان کے مال کے لیے قسم اٹھائی اور اس کا حق مار لیا۔“ حدیث کا باقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے۔
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه البخاري في ((المساقاة)) الشرب، باب: من رای ان صاحب الحوض والقرية أحق بمائه برقم (2240) وفي التوحيد، باب: قول الله تعالي: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7008) انظر ((التحفة)) برقم (12855) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔