حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي ، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْهُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ : ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا ، أَفَأَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .
لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو، وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔“
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ : فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں (لیث کی) سابقہ حدیث کی طرح «أسلمت للہ» ”میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا“ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہہ دیا۔“ (دونوں کا حاصل ایک ہے۔)
حدیث نمبر: 95
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو (ابن اسود) کندی رضی اللہ عنہ نے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ) بدر میں شرکت کی تھی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی (روایت کردہ) سابقہ حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ ، قَالَ : " أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ ، حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا ؟ " فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَقَالَ سَعْدٌ : وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ ، وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ ، وَأَنْتَ ، وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونُ فِتْنَةٌ .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا، ہم صبح صبح جہینہ قبیلہ کی بستی حرقات پہنچ گئے۔ میں نے ایک آدمی پر غلبہ حاصل کیا تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا، میں نے (اس کو) کاٹ ڈالا۔ اس کے بارے میں میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا، سو میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے لا إله إلا الله کہنے کے باوجود اسے قتل کردیا؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے اسلحہ کے ڈر سے کلمہ پڑھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا، تاکہ تمہیں پتا چل جاتا اس نے دل سے کہا ہے یا ڈر سے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کلمہ دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا، تو سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اور میں اللہ کی قسم! کسی مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ اسے قتل کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں: ”ان سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ مٹ جائے (کسی میں دین سے پھیرنے کی طاقت نہ رہے) اور اللہ کا پورا دین عام ہو جائے۔“ تو سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے فتنہ فرو کرنے کی خاطر جنگ لڑی، تو اور تیرے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، يُحَدِّثُ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَلَحِقْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيَّ ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : يَا أُسَامَةُ ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا ، قَالَ : فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا، تو ہم نے ان لوگوں پر صبح صبح حملہ کردیا اور ان کو شکست دے دی۔ میں اور ایک انصاری آدمی نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا، جب ہم نے اس کو گھیرے میں لے لیا (وہ حملہ کی زد میں آ گیا) اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا، انصاری اس سے رک گیا، میں نے اپنا نیزہ مار کر اس کو قتل کر دیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تو اس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہو گئی (جو خود اسامہ رضی اللہ عنہ نے دی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے اسامہ! کیا تو نے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کردیا؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے تو محض پناہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تو نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کر دیا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی اے کاش! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا۔ (آج مسلمان ہوتا تا کہ تمام پچھلے گناہ معاف ہو جاتے)۔
حدیث نمبر: 97
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا ، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ ، فَقَالَ : تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ ، قَالَ : وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لِمَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهَ ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا ، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا ، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " .
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا: میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفر (نفر سے دس تک کی جماعت) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں: چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب وہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئے آئے اور کہا: جو باتیں تم کر رہے تھے، وہ کرتے رہو۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا۔ جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) تو انہوں نے اپنے سر سے لمبی ٹوپی اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں (لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنے سامنے ہوا۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس (مشرک) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا، (جندب بن عبداللہ نے) کہا: ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی خوشخبری دینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے (حالات کے متعلق) پوچھا، اس نے آپ کو حالات بتائے حتیٰ کہ اس آدمی (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں نے کیا کیا۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا: ”تم نے اسے کیوں قتل کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے، (پھر کہا:) میں اس پر حملہ کیا، اس نے جب تلوار دیکھی تو «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ) کہا: جی ہاں! فرمایا: ”قیامت کے دن جب «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن (تمہارے سامنے کلمہ) «لا إله إلا اللہ» آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟“ (جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے، یہی کہہ رہے تھے: ”قیامت کے دن «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کیا کرو گے؟“