کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وَكِيعٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " ، وَقُلْتُ أَنَا : وَمَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ .
عبداللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (وکیع نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا) آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔“ اور میں (عبداللہ) نے کہا: جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 93
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُوجِبَتَانِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ مَاتَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ النَّارَ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جنّت اور دوزخ کو واجب ٹھہرانے والی دو صفات کون سی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جو شرک نہ کرتا ہوا مرا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 93
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَقِيَهُ ، يُشْرِكُ بِهِ ، دَخَلَ النَّارَ " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : قَال أَبُو الزُّبَيْر : عَنْ جَابِرٍ .
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی اللہ کو اس حالت میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا ہوا ملا وہ آگ میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 93
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بِمِثْلِهِ .
امام مسلم رحمہ اللہ مذکورہ روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 94
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " .
معرور بن سوید نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں (ابوذر) نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔“
حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ : وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ " .
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے اور آپ پر ایک سفید کپڑا پڑا ہوا تھا۔ پھر میں دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا تو آپ پھر سوئے ہوئے تھے۔ پھر میں (تیسری دفعہ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے تو میں آپ کے پاس بیٹھ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندہ نے بھی لا إله إلا الله کہا پھر اسی پر مرا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔“ میں نے پھر کہا: اگرچہ زنا کرے اور چوری کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔“ میں نے تین دفعہ کہا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں دفعہ یہی جواب دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی دفعہ فرمایا: ”ابو ذر کی ناک کے خاک آلود ہونے کی صورت میں بھی۔“ (یعنی اس کی خواہش اور رائے کے برعکس) تو ابو ذر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے یہ کہتے ہوئے نکلے: اگرچہ ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو۔