حدیث نمبر: 87
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا ، الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا ، فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا ، حَتَّى قُلْنَا : لَيْتَهُ سَكَتَ .
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: ”کیا میں تمھیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی شہادت دینا یا جھوٹی بات کرنا۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آخری بات کو مسلسل دہراتے رہے حتٰی کہ ہم نے (جی میں) کہا اے کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش ٹھنڈا ہو جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکرار سے تکلیف نہ ہو)
حدیث نمبر: 88
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْكَبَائِرِ ، قَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَقَوْلُ الزُّورِ " .
خالد بن حارث نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا۔“
حدیث نمبر: 88
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ ، أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ ، فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ ، أَوَ قَالَ : شَهَادَةُ الزُّورِ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ .
محمد بن جعفر نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا (یا آپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا) تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟“ فرمایا: ”جھوٹ بولنا (یا فرمایا: جھوٹی گواہی دینا)“ شعبہ کا قول ہے: میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ”جھوٹی گواہی“ ہے۔
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالسِّحْرُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات تباہ کن گناہوں سے بچو۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک، جادو، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا (بھاگ جانا) اور پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا۔“
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ فرمایا: ”ہاں کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 90
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔