حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَال إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ " .
منصور نے ابووائل سے، انہوں نے عمرو بن شرحبیل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی (اللہ) نے پیدا کیا ہے۔“ میں نے عرض کی: واقعی یہ بہت بڑا (گناہ) ہے، کہا: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔“ کہا: میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔“
حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68 .
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا گناہ اللہ کے ہاں بڑا ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر قرار دو، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔“ اس نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: ”کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے قتل کردو کہ وہ تمھارے ساتھ کھائے گی۔“ اس نے پوچھا پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کی تصدیق میں اتارا: ”جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ قرار نہیں دیتے اور اللہ نے جس جان کو محترم ٹھہرایا ہے (اس کے قتل کو حرام قرار دیا ہے) اس کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ان کا ارتکاب کرے گا وہ گناہ (کی سزا) سے دوچار ہو گا۔“ (سورة الفرقان: 68)